بلوچستان کے عوام کو آزادانہ زندگی بسر کرنے دی جائے، ماما قدیر بلوچ

سوراب : بلوچستان کے لاپتہ افراد کی آواز بننے والے قافلہ "کاروان ماما قدیر”کامریڈ گلزار بلوچ کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ سوراب پہنچ گیا جہاں سیاسی و سماجی رہنماں نے استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم تربت سے کوئٹہ کےلئے 800کلو میٹر پیدل لانگ مارچ پر نکلے ہیں جو کہ آج ہمیں پندرہ دن ہوگئے ہیں ہم سوراب پہنچ گئے ہیں اور ہماری تحریک "ماما قدیر بلوچ کاروان”کے نام سے منسوب ہے اس تحریک میں میرے ساتھ میرے ہمنوا محمد یعقوب بلوچ جوسکی،زبیر احمد بلوچ آسکانی اور عبدالسلام بلوچ ہیں۔ہم نے اجتماعی طور پر بلوچستان کے حقوق پر چار ڈیمانڈز لیکر تحریک کا آغاز کیا ہے جن میں لاپتہ افراد کی بازیابی شامل ہیں ہماری سرزمین بلوچستان میں کوئی گھر، شہر اور گاں محفوظ نہیں جہاں سے بلوچ قوم کے نوجوان ورنا کو لاپتا نہیں کیا گیا ہو ہماری ماں،بہنوں اور بیٹیوں کو ان کے باپ،بیٹے اور شوہر سے الگ کر ایک اذیت ناک زندگی بسر کرنے پر مجبور کئے گئے ہیں تاریخ خود گواہ ہے اس بات کی کہ ہر ہمیشہ بلوچ قوم کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے جبکہ ہمارا دوسرا ڈیمانڈ منشیات ہے ایک سازش کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کو جان بوجھ کر منشیات جیسے لانت میں دھکیلا رہے ہیں اس سے بلوچ قوم کی نسل کشی کی جاری ہے اس لانت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کروانا ہیں جبکہ ہماری تیسری ڈیمانڈ میں بلوچستان سے ایف سی کے تمام کیمپس اور چوکیاں ختم کرنے انہیں نکالنا بھی شامل ہیں۔ کیونکہ بلوچستان کو چاروں اطراف سے بلاوجہ گیرے ہوئے ہیں مزید انہوں نے کہا کہ ہماری آخری اور چھوتا ڈیمانڈ بلوچ سرزمین کے حوالے سے ہیں کہ بلوچستان کے لوگوں مکمل طور پر آزادانہ زندگی بسر کرنے کے لیے آزادی دی جائے تاکہ لوگ اپنی زندگی محفوظ سمجھ کر خوشحال زندگی گزارے ۔ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ یہ تحریک کوئٹہ پہنچنے پر ختم نہیں ہوگا جب تک حکومت بلوچستان اور حکومت پاکستان ہماری ڈیمانڈز تسلیم نہیں کرتا۔ مزید انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں بلوچستان سے ہمیں کاروان ماما قدیر بلوچ کو بلوچستان کے تمام قوم پرست سیاسی جماعتوں،سیول سوسائٹیز،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنازیش آرگنائزیشنز اور مسنگ پرسن تنظیم کی حمایت اور سپورٹ حاصل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں