اعصابی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل
2018سے جاری اپوزیشن کی حکومت ہٹاؤ مہم آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پہلی مرتبہ بھرپور سنجیدگی سے حکومت بچاؤ مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی اپوزیشن سے ہاتھ نہ ملانے کا فیصلہ کیا اور آج تین سال سات ماہ گزرنے کے بعد بھی اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ اپوزیشن نے 23مارچ کی سیاسی اہمیت کو دیکھتے ہوئے 8مارچ کو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کرادی۔وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو سینیٹر منتخب کرانے میں ناکامی کو بھی عمومی طور پر وزیر اعظم کے خلاف بالواسطہ عدم اعتماد ہی کہا گیا۔وزیر اعظم نے اس تأثر کو دور کرنے کے لئے دوبارہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیااور آج تک اسی کامیابی کے بل پر وزیر اعظم ہاؤس میں مقیم ہیں۔اقتدار کے چوتھے سال کوسیاسی اعتبار سے عموماً کارکردگی کا آخری سال سمجھا جاتا ہے۔اس لئے کہ پانچویں سال میں کرائے جانے والے ترقیاتی کاموں پر طنز کرتے ہوئے حکومتی امیدوارسے کہا جاتاہے:”اب ووٹ لینے کا وقت آیا تو ہماری یاد آگئی؟“، حکومت پنی کارکردگی سے واقف ہے۔حکومت جانتی ہے کہ اس نے ساڑھے تین برسوں میں عوام کی مشکلات میں کمی لانے کے لئے کیا کیا؟اپوزیشن کی رائے میں حکومتی کارکردگی خراب رہی، حکومت عوام کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں، عوام حکومت کی ناقص کارکردگی کے باعث حکومت سے سخت ناراض ہیں۔مہنگائی ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہی ہے۔اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کو حفاظتی ہیلمٹ پہن کر باہر نکلنے کا مشورہ دیا۔عوام نے کسی ایک جلسے میں بھی اپوزیشن کے دعوے کے مطابق انڈوں اور ٹماٹروں سے وزیر اعظم کا استقبال نہیں کیا۔اب فیصلہ قومی اسمبلی کے فلور پر قومی اسمبلی کے ”معزز“ اراکین خود کریں گے۔رائے شماری کے روز341اراکین میں سے 172اگرکھڑے ہوکر بلند آواز سے کہہ دیں گے:”مجھے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد نہیں“، عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔تمام سیاسی پارٹیاں صبروتحمل سے کام لیں، اب وہ دن زیادہ دور نہیں، بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق 17یا18مارچ کو رائے شماری کرائی جا سکتی ہے۔آج14مارچ ہے، دو چار دن کی بات ہے، گزر جائیں گے۔پارلیمنٹ سے باہر قدم قدم پر افواہ سازی کی فیکٹریاں دن رات افواہ سازی میں مصروف ہیں۔عوام اب لاتعلق نہیں رہے۔ان کی بڑی تعداد جلسوں شریک ہو رہی ہے۔میڈیا جلسوں کی لائیوروئیداد لمحہ بہ لمحہ ملک اوردنیا کے ہر کونے تک پہنچا رہے ہیں۔آنکھوں دیکھی کیفیت کو جھٹ کہنا آسان نہیں۔یہ ایک پی ٹی وی(سرکاری) چینل کا دور نہیں، بیسیوں ٹی وی چینل دن رات اپنی نشریات دکھا رہے ہیں۔سوشل میڈیا اس کے علاوہ ہے۔عام آدمی اپنی پسند کی خبر حاصل کر لیتا ہے۔پاکستان کے عوام حکمرانوں کی غلطیوں کا حساب اپنی جیب سے چکا رہے ہیں۔واضح رہے جو قرض ادا کرتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ قرض اس کے حکمرانوں نے ماضی میں لیا تھا،مگر حکمرانوں نے اس قرض کی واپسی کا بروقت بندوبست نہیں کیا تھا۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ ماضی میں لئے گئے قرضوں کا بڑا حصہ منصوبوں پر خرچ ہونے کی بجائے اِدھر ُادھر غائب ہوگیا،غیر ملکی اکاؤنٹس کی لیک ہونے والی فہرستوں میں پاکستان کے بعض حکمران خاندانوں کے نام موجود ہیں۔ہر پاکستانی ماچس کی ڈبیہ اور صابن کی ٹکیہ پر جو سیلز ٹیکس ادا کرتاہے وہ بھی درمیان میں خورد برد کیا جاتا رہا ہے۔اب مشینوں کی مدد سے اس کی روک تھام ہوئی ہے تو اس کے نتیجے میں ٹیکس وصولی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔50سال کے دوران ڈیم تعمیرنہیں ہوئے۔اس ناقص حکمت عملی کے منفی اثرات براہ راست عام آدمی پر پڑے، کسانوں کو زراعت کے لئے عام آدمی کو پینے کا صاف شفاف صحتمندپانی میسر نہیں۔ منرل واٹر کے نام پر اسے مضر صحت پانی فراہم کیا جاتا ہے کوئی سرکاری ادارہ عام آدمی کی مدد کے لئے نہیں آتا۔سب نے منافع خوروں سے سمجھوتہ کیا ہوا ہے، مددگار بنے ہوئے ہیں۔ عوام کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔ابھی اپوزیشن کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف جمع کرائی گئی تحریکِ عدم اعتماد زیر التواء ہے، رائے شماری نہیں ہوئی کہ اسپیکر،صدرِ مملکت اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے دعوے بھی میڈیا پر ہونے لگے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان کو حمایت کرنے والے مطلوب ایم پی ایز کہاں سے ملیں گے۔ساری حمایت وزیر اعظم عمران خان کی بناء پر ملی ہوئی ہے۔یہ چھتری ہٹتے ہی ان کی کہانی ختم ہوجائے گی۔اور صدر بھی ایوان صدر کے قیدی دکھائی دیں گے۔ایوان صدر کی دیواروں پر ایک بار پھر ”صدر کو رہا کرو“ لکھا نظر آئے گا۔سیاست دان دیکھ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیادوں پر سیاسی منظر تبدیل ہو رہا ہے۔عام آدمی کا وزیر اعظم کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد سے کوئی لینا دینا نہیں۔یہ فیصلہ جب بھی ہو گا، قومی اسمبلی کے اراکین،قومی اسمبلی کے فلور پر کریں گے۔کسی پارٹی کے سربراہ یا اس کی رہائش گاہ پر جمع ہونے والے سیاست دان نہیں کریں گے۔نہ ہی یہ کام پریس کانفرنسز کے روبرو بیانات اور عوامی جلسوں میں تقاریر سے کیا جانا ممکن ہے۔اس حقیقت سے سب واقف ہیں کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا کوئی بھی فیصلہ دروغ بیانی اور افواہ سازی کا یہ طوفان بدتمیزی نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود کسی کو احساس نہیں کہوقت کی اپنی اہمیت ہے۔ان فضول حرکتوں میں اپنی زندگی کے انمول لمحات ضائع کرنا کسی لحاظ سے دانشمندی نہیں کہہ سکتے۔صدیوں پہلے سیانے کہہ گئے ہیں: ”خواب دیکھنے پر کوئی خرچ نہیں آتا،خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی“۔مگر خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لئے قائداعظم محمد علی جناح جیسی بصیرت اور علامہ محمد اقبال جیسا علم درکار ہوتا ہے۔ موجودہ کھیپ میں ایسی قدآور شخصیت نظر نہیں آتی۔1985کے بعد جو سیاسی لاٹ تیار کی گئی انہیں دیکھ کر عام آدمی کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کسے اور کیوں اپنا قائد کہے یا اس پر فخر کرے۔اب تو ٹھیلے والے بھی ٹی وی کیمروں کے سامنے برملا تبصرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔گزشتہ چالیس پچاس برسوں کی تاریخ فر فر سناتے ہیں۔کون ملک میں رہا کون ملک سے باہر زندگی بسر کرتا رہا؟ نوجوان نسل جانتی ہے۔ہر ذی شعور شخص سمجھ رہا ہے کہ پاکستان میں جب بھی انتخابات منعقد ہوئے فیصلہ نوجوان نسل کرے گی۔ بوڑھوں نے نوجوان نسل کو مایوس کیا ہے۔


