فلور کراسنگ کے خلاف کارروائی کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا موقف

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وزیراعظم اور حکومتی ارکان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد میں پارٹی پالیسی کے خلاف جانے (فلور کراسنگ) والے ارکان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر تنقید کے بعد الیکشن کمیشن کا موقف سامنے آگیا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ حکومتی عہدیدار الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنارہے ہیں کہ الیکشن کمیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اور ارکان پارلیمنٹ کی مبینہ فلور کراسنگ کے سلسلے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا وزیر اعظم کے انتخاب اور عدم اعتماد سے کوئی تعلق نہیں، یہ ذمہ داری اسپیکر قومی اسمبلی بطور پریذائیڈنگ آفیسر سر انجام دیتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ کے انحراف پر الیکشن کمیشن کا کردار پارٹی سربراہ اور اسپیکرکی طرف سے ڈکلیریشن موصول ہونے کے بعد شروع ہوگا، پارٹی سربراہ متعلقہ ممبر پارلیمنٹ کے انحراف سے متعلق ڈکلیریشن جاری کرےگا، جو اسپیکر قومی اسمبلی اور چیف الیکشن کمشنر کو بھجوایا جائےگا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پارٹی سربراہ متعلقہ ممبرکو وضاحت کا موقع دےگا اس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی 2 دن کے اندر انحراف سے متعلق ڈکلیریشن چیف الیکشن کمشنر کو بھجوائےگا، جسے کمیشن کے سامنے پیش کرکے 30 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں