ملک میں پولیس حکمرانوں کے تابع کام کرتی ہے، بلوچستان بار
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ پولیس کا بنیادی مقصد جرائم کی سرکوبی اور شہریوں کو جان ومال کا تحافظ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ملک کی آزادی سے لے کر اب تک اس ادارے کی سمت درست نہ کی جا سکی ہے۔ ملک میں پولیس کے مظالم سے ہر شخص بخوبی واقف ہے۔ ملک میں پولیس حکمرانوں کے تابع کام کرتی ہے۔ یہ غور طلب بات ہے کہ قانون کا محافظ اگر ایسی قانون شکن حرکتیں کرے تو ان میں اور عام لوگوں میں فرق کیا رہے گا۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں قانون کا نفاذ ہر ایک کے لئے مساوی نہیں ہے یہاں کمزور کیلئے قانون الگ طاقتور و با اثر کے لئے اور ہے۔ اسی وجہ سے ملک میں لا قانو نیت ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے تشویش کااظہار کیا کہ عدالت سے 2سال تک مفرور رہنے والے ایس پی عطا الرحمن کو قبل از گرفتاری ضمانت کی منظوری کافیصلہ لورالائی کورٹ کی کارکردگی اور جانبداری پر سوالیہ نشان بلکہ آئین وقانون کے برخلاف فیصلوں سے عدلیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، ٹرائل کورٹ کی کارکردگی اور غیر جانبداری پر بھی سوالیہ نشان ہے۔گزشتہ روز ضلع لورالائی کے سیشن جج کی جانب سے پروفیسر ارمان لونی کے قتل میں نامزد ملزم ایس پی عطا الرحمن کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی منظوری سے متعلق فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تشویش کااظہار کیاگیاہے کہ ہائی کورٹ سے ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کی درخواست خارج ہونے کے باوجود ضمانت قبل از گرفتاری کی جانبدارانہ اور غیر قانونی تصدیق بلکہ کیس کی سماعت کرنے والی عدالت ٹرائل کورٹ کی کارکردگی اور غیر جانبداری پر بھی سوالات کھڑے کررہی ہے ہائی کورٹ بار نے کہاہے کہ نومبر 2019میں سپریم کورٹ میں 3رکنی بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے خلاف دائر متعدد اپیلوں کو نمٹاتے ہوئے کہا تھا کہ ضمانت قبل از گرفتاری ایک غیر معمولی علاج ہے اور اسے صرف بے گناہ افراد کو قانون کے غلط استعمال سے بچانے کیلئے احتیاط سے استعمال کیا جائے عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری خصوصی رعایت ہے جو ہر ملزم کو نہیں مل سکتی، ملزم کو گرفتاری سے بچانے کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ملزمان کی عدم گرفتاری سے شواہد ضائع بھی ہو سکتے ہیں، بادی النظر میں شواہد موجود ہوں تو ضمانت قبل از گرفتاری نہیں ہو سکتی۔یہاں شواہد کی موجودگی کے باوجود ضمانت کی منظوری انتہائی تشویشناک ہے۔بیان میں کہاگیاہے کہ دنیا میں آئین ہی کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور سب کو اسی آئین کے تحت یکساں حقوق حاصل ہیں اور اس آئین پرعملدرآمد کیلئے پاکستان میں ملکی،صوبائی اور ضلعی سطح پر عدالتیں قائم کی گئی ہے جس میں انصاف کی کرسی پر بیٹھا جج غریب اور امیر،طاقت اور کمزور کا فرق کئے بغیر سب کو یکساں انصاف فراہم کرتاہے لیکن گزشتہ روز ایک ملزم جس کے خلاف 6چشم دید گواہ کی موجودگی اور پھر خود قانون کارکھ والا ہونے کے باوجود عدالت سے 2سال تک مفرور رہنے والے ایس پی عطا الرحمن کو قبل از گرفتاری کی منظوری ٹرائل کورٹ کی کارکردگی اور جانبداری پر سوالیہ نشان ہے، ایسے فیصلوں سے عوام کا عدلیہ پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن سیشن کورٹ لورالائی کے اس فیصلے پر شدید تشویش کااظہار کرتی ہے۔


