ینگ ڈاکٹرز کاحکومتی اعلان کے باوجود اوپی ڈیز سے بائیکاٹ جاری

کوئٹہ:ینگ ڈاکٹرز کا سروسز سے بائیکاٹ،حکومت بلوچستان ومحکمہ صحت اعلان کے باوجود او پی ڈیز نہ کھلوا سکیں، سرکاری ہسپتا لوں میں سروسز کی بحالی صرف بیانات تک محدود ہوگئے،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے سیکرٹری صحت کی برطرفی،گرفتارڈاکٹرز کی رہائی اور ایف آئی آر کے خاتمے سمیت فورسز کو ہسپتالوں سے بے دخل کرنے تک ہرقسم کی سروسز سے بائیکاٹ کااعلان کیاہے۔تفصیلات کے مطابق حکو مت بلوچستان کے تمام تر دعوے ہوا میں آڑ گئے ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات کے حق میں احتجاج کے پانچ ماہ بعد بھی اوپی ڈیز کھل نہ سکے، محکمہ صحت کی جانب سے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں او پی ڈیز کھولنے کے اعلانات کئے گئے تھے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہوسکا، کوئٹہ کے بولا ن میڈیکل کمپلیکس ہسپتال اور سول ہسپتال سمیت دیگر میں حکومتی دعوؤں کے باوجود او پی ڈیز سمیت دیگر سروسز بند رہیں،دوردراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کوشدیدمشکلات کاسامنا کرناپڑا،دوسری جانب حکومت کا بیڈایکٹ کے تحت ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف سخت کارر وائی کا فیصلہ کیا گیا تھا اوپی ڈیز تو کھول دئیے گئے لیکن حکومت ڈاکٹرز وپیر امیڈیکس اسٹاف کو حاضر نہ کرسکے،مریض کے ساتھ آئے ہوئے رشتہ داروں کاکہناہے کہ حکومت اوپی ڈیز قائم مختلف شعبوں کے دروازوں کو تاحال تھالے کھلنے میں ناکام ہوگئی ہے،دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کی جانب سے اعلان کیاگیاہے کہ جب تک سیکرٹری صحت نورالحق بلوچ کو برطرف نہیں کیاجاتا،ینگ ڈاکٹرز کے گرفتارساتھیوں کو رہا اور ان کے خلاف درج نام نہاد ایف آئی آرز کو ختم نہیں کیاجاتا اس کے علاوہ سرکا ری ہسپتالوں میں موجود ایف سی اور پولیس کے اہلکاروں کو بے دخل نہیں کیاجاتا اور مطالبات کانوٹیفکیشن جاری نہیں کیاجاستااس وقت تک ینگ ڈاکٹرز وپیرامیڈیکل اسٹاف کی جانب سے صوبے کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہرقسم کی سروسز کابائیکاٹ کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں