بلوچستان کے معاملات کو حل کرنے کے بجائے گمبھیر بنایا جارہا ہے، بی این پی
اسلام آباد (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت مرکزی صدر سردار اختر جان مینگل اسلام آباد بلوچستان ہاﺅس میں منعقد ہوا اجلاس کی کارروائی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ نے چلائی اجلاس میں بلوچستان ملکی بین الاقوامی سیاسی و تنظیمی امور ‘ ریکوڈک معاہدے اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم امور زیر غور لائے گئے ان پر سیر حاصل بحث کی گئی اجلاس میں بلوچ بزرگ سیاسی رہنماءڈاکٹر حئی بلوچ‘ حاجی خدا بخش پرکانی‘ شہید محمد خان مینگل‘ حاجی حضور بخش چنال‘فراز لہڑی ‘ اسلم رند و دیگر کو طویل جدوجہد ‘ قربانیوں ‘ ثابت قدمی ‘ مستقل مزاجی پر زبردست خراج عقیدت پیش کی گئی اور دعائے مغفرت بھی کی گئی اجلاس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران سے حلف بھی لیا گیااجلاس میں حکمرانوں کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق کہا گیا کہ اسلام آباد وپنجاب کے درس گاہوں میں بلوچ طلباءپر تعلیم کے دروازے بند کرنے ‘ بلوچستان کے معاملات کو حل کرنے کی بجائے گھمبیر بنانا ‘بلوچستان کے مسائل میں اضافہ ہونا ‘ موجودہ حکمرانوں نے میڈیا کی آزادی ‘ آرڈیننس کے ذریعے آزاد میڈیا کا گلہ گھونٹنے ‘ کرپشن ‘ اقرباءپروری ‘ مہنگائی ‘ پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے ‘ جمہوریت اور جمہوری اداروں کے خلاف سازشیں ‘ تمام طبقہ فکر کو مزید معاشی تنگ دستی ‘ بدحالی کی جانب دھکیلنا ‘ غربت ‘ کمر توڑ مہنگائی میں اضافے سے متعلق متحدہ اپوزیشن نے عوام کے ساتھ ہونے والے درج بالا ناانصافیوں سے متعلق تحریک عدم اعتماد یقینا وقت و حالات کے عین مطابق ہے کیونکہ آج معاشی بدحالی ‘ تنگ دستی ‘ سمیت سماجی مشکلات نے عوام کو گھیر لیا ہے انہی بنیادوں پر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو یہ جمہوریت عوام کے اجتماعی مفادات کیلئے بہتر ہو گا آج حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے عوام نان شبینہ کے محتاج بن چکے ہیں حکومت سے عوام کو چھٹکارا دلانا وقت و حالات کی ضرورت ہے اگر متحدہ اپوزیشن کی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے تو بلوچستان نیشنل پارٹی کے یقیناً متحدہ اپوزیشن اور پی ڈی ایم کے سامنے پارٹی کے چھ نکات سمیت دیگر بلوچستان کے اجتماعی قومی معاملات کے حوالے سے گفت و شنید ‘ آواز بلند کی جائے گی پارٹی کے سامنے بلوچستان کے جملہ مسائل کا حل ضروری ہے نہ کی گروہی و دیگر مراعات ‘ بلوچ اور بلوچستانی عوام کے مسائل کے حل کے حوالے سے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ریکوڈک معاہدہ کو پارٹی یکسر مسترد اور معاہدے کی مذمت کرتی ہے موجودہ حکمرانوں کے پاس تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد کسی معاہدے کا مینڈیٹ نہیں ہے حکمرانوں کو یہ حق نہیں کہ وہ دستخط کرتے پھریں یہ غیر جمہوری ‘ غیر آئینی اقدام ہے پارٹی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے کسی ایسے معاہدے کو ہم قبول نہیں کرتے بی این پی اس متعلق پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر احتجاج ‘ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے بلوچستان کے وسائل مال ٰغنیمت نہیں جنہیں بے دردی کے ساتھ لوٹا جائے پارٹی ریکوڈک سمیت بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کو برداشت نہیں کرے گی اور کہا گیا ہے کہ سیندک کو بھی ایسے ہی معاہد ے کی بھینٹ چڑھا دیا جائے اور وسائل لوٹے جا رہے ہیں بی این پی سب سے بڑی قومی جماعت ہونے کے ناطے کسی بھی استحصالی ‘ ناانصافیوں پر مبنی پالیسی معاہدوں کو قبول نہیں کرے گی اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ لگنے والے بارڈرز طویل عرصہ سے بند ہیں ان کی بندش کی وجہ سے تجارت سرگرمیاں مانند پڑ گئی ہیں لوگ معاشی تنگ کا شکار ہو رہے ہیں پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر بارڈرز کو تجارتی سرگرمیوں کیلئے کھولا جائے مزید راہدری گیٹ بنائے جائیں بارڈرز سے منسلک عوام کو آنے جانے میں معاشی سرگرمیوں میں آسانی ہو سکے اجلاس میں کہا گیا کہ پارٹی کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے سے متعلق اقدامات کئے جائیں گے اور عوام کے ساتھ قریبی روابط رکھے جائیں گے اور تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی جدوجہد پارٹی کیلئے معاون و مدد گار ثابت ہوگی اجلاس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈویڑنل بنیادوں پر کوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی تاکہ پارٹی کو مزید فعال بنانے میں آسانیاں پیدا ہوں پارٹی پروگرامز کو گھر گھر پہنچایا جائے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ تمام ضلعوں کے صدرو ‘ جنرل سیکرٹریز ‘ آرگنائزر ‘ ڈپٹی آرگنائزرز ‘ ضلعی فنانس سیکرٹریز کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ضلعوں میں یونٹ ممبران سے ماہانہ فیس کی وصولی یقینی بنائیں اور مرکزی فنانس سیکرٹری روابط رکھیں اجلاس میں مرکزی دورہ کمیٹیوں تشکیل دی گئیں جن کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔


