افغانستان کی خودمختاری اور قومی یکجہتی کا احترام کیا جائےگا، وزرائے خارجہ اعلامیہ

اسلام آباد (انتخاب نیوز) افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے تیسرے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ افغانستان کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی یکجہتی کا احترام کیا جائےگا، اجلاس میں شریک ممالک افغانستان کی اقتصادی بحالی اور مستقبل کی ترقی کے لیے کئے گئے وعدوں کو سنجیدگی سے پورا کریں،افغانستان کی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور افغان سرزمین پر دہشت گرد گروپوں کو کوئی جگہ نہیں دی جائے گی۔افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا تیسرا اجلاس جمعرات کو چین کے صوبہ انہوئی کے شہر تونسی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چین، ایران، پاکستان، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس کو مبارکباد کا پیغام بھیجا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ویڈیو لنک کے ذریعے پیغام دیا۔ اجلاس کے شرکاءنے افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے تعاون پر مبنی اور تعمیری بات چیت کی۔ اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی یکجہتی کا احترام کیا جائے گا۔ اجلاس میں شریک ملکوں نے افغان عوام کی افغانستان کے مستقبل کا آزادانہ طور پر خود فیصلہ کرنے کے بنیادی اصول کی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بنیادی طور پر ذمہ دار ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی اقتصادی بحالی اور مستقبل کی ترقی کے لیے کئے گئے وعدوں کو سنجیدگی سے پورا کریں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان علاقائی ممالک اور افغانستان کے مشترکہ مفادات کو پورا کرتا ہے، اس مقصد کے لیے انہوں نے مشترکہ طور پر تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔ افغانستان میں بات چیت اور گفت و شنید کے ذریعے قومی مفاہمت کے حصول اور ایک وسیع البنیاد اور جامع سیاسی ڈھانچہ قائم کرنے، اعتدال پسند اور مستحکم ملکی و خارجہ پالیسیاں اپنانے اور تمام ممالک بالخصوص پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھانے کی اہمیت ناگزیر ہے، فریقین کےلئے ضروری ہے کہ وہ ان مقاصد کےلئے افغانستان کے ساتھ بات چیت اور رابطوںکو مضبوط کریں۔ بیان میں افغانستان میں خواتین کے حقوق اور بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لوگوں کے روزگار کو بہتر بنانے، نسلی گروہوں، خواتین اور بچوں سمیت تمام افغانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس کے شرکاءنے انسانی امداد کو سیاسی رنگ دینے کی کوششوں کی ایک بار بھر مخالفت کی جبکہ افغانستان کے عوام کو بین الاقوامی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کی تقسیم اور استعمال میں افغانستان کے مرکزی کردار کے احترام اور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ بیان میں افغانستان میں انسانی صورتحال، معاشی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور افغان عوام کو مزید انسانی امداد فراہم کرنے کےلئے تیار رہنے کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے میں اقوام متحدہ کے کلیدی کردار کی حمایت کا اظہار کیا گیا، عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعلقہ ارکان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغانستان کے عوام کے لیے ہنگامی انسانی امداد کو تیز کریں۔ اجلاس نے افغانستان میں کورونا کے پھیلاﺅ اور ادویات اور طبی آلات کی کمی پر تشویش ظاہر کی اور صحت کی دیکھ بھال اور کورونا پر قابو پانے میں افغانستان کی صلاحیت بڑھانے میں مدد کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔ اجلاس نے ترقی کے لیے افغانستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے دو طرفہ اور کثیرالجہتی سطحوں پر افغانستان کی اقتصادی بحالی، تجارت اور معیشت، توانائی اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شریک ملکوں نےبیلٹ اینڈ روڈ انیشییٹو کے ساتھ ساتھ علاقائی تعاون کی تنظیموں جیسے فریم ورک میں تعاون کو وسعت دینے اور افغانستان کو علاقائی رابطوں، توانائی اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، اقتصادی اور تجارتی نظام میں شامل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ بیان میں افغانستان کی جانب سے عالمی برادری سے ساتھ کیے گئے ان وعدوں کا تذکرہ کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور افغان سرزمین پر دہشت گرد گروپوں کو کوئی جگہ نہیں دی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں استحکام کو متاثر کرنے والے ایک اہم عنصر دہشت گردی ہے، ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ داعش، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم، ٹی ٹی پی، بی ایل اے، جنداللہ، جیش العدل، جماعت انصار اللہ، آئی ایم یو اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو افغان سرزمین پر کوئی جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔ بیان میں تمام متعلقہ افغان فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ دہشت گرد قوتوں کی تمام شکلوں کے ساتھ صاف ستھرا ہونے کے لیے مزید واضح اقدامات کریں، تمام دہشت گرد تنظیموں کی آزادانہ نقل و حرکت پر نظر رکھیں اور ان کے خاتمہ کے لئے ان کے تربیتی کیمپوں کو بھی ختم کریں، اس ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ یا پھیلاﺅ کا ذریعہ نہیں بنے گا، متعلقہ افغان فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ افغانستان میں غیر ملکی شہریوں اور اداروں کی سلامتی اور جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کریں۔ بیان میں ہمسایہ ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے، دہشت گردی کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کی تیاری کا اعادہ کیا گیا، افغانستان کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے متعلقہ افغان فریقین کو منشیات کی کاشت، پیداوار اور غیر قانونی سمگلنگ کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کی ترغیب دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ سرحد پار منشیات سے متعلق جرائم سے نمٹنے اور لوگوں کی صحت اور سماجی استحکام کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے شرکائ نے افغان مہاجرین اور اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے اداروں کی حمایت کی ہے۔ مشترکہ بیان میں علاقائی ممالک بالخصوص پاکستان اور ایران کی جانب سے افغان مہاجرین کے معاملے پر کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغان مہاجرین کی باعزت اور بروقت ملک واپسی کے لیے ان ممالک کو مسلسل، مناسب اور متناسب مالی معاونت فراہم کریں۔ اجلاس کے شرکائ نے ہمسایہ ممالک کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندوں اور تین ورکنگ گروپس کے درمیان باقاعدہ مشاورت کے لیے ایک طریقہ کار کے آغاز کا اعلان کیا تاکہ وزرائے خارجہ کے اجلاسوں کے نتائج پر عمل کیا جا سکے۔ بیان میں وزرائے خارجہ کے تیسرے اجلاس کی میزبانی پر چین کا شکریہ ادا کیا گیا جبکہ 2023 کی پہلی سہ ماہی میں تاشقند میں وزرائے خارجہ کا چوتھا اجلاس بلانے کے لیے ازبکستان کی حمایت کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں