سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی مارشل لا ہے، شیریں مزاری

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو عدالتی مارشل لا قرار دیا۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ گذشہ رات ایک عدالتی مارشل لا نافذ کیا گیا، عدالتی فیصلے میں پارلیمانی برتری کو ختم کرتے ہوئے یہ تک لکھوایا گیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کب اور کس وقت ہونا چاہئیے۔وفاقی وزیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید لکھا کہ امریکا کی جانب سے حکومت کو تبدیل کرنے کا معاملہ جس نے ڈپٹی اسپیکر کو رولنگ پر مجبور کیا اسے سرے سے نظر انداز کر دیا گیا لیکن یہ اختتام نہیں ہے۔۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، تحریری حکمنامہ 8 صفحات پر مشتمل ہے، عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی نہیں کیا جائیگا، اجلاس میں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے، تمام ارکان بغیر رکاوٹ ووٹ دے سکیں گے،آرٹیکل63 کے نفاذ پر عدالتی فیصلہ اثرانداز نہیں ہوگا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے کا 8 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی 3اپریل کی رولنگ آئین اور قانون کے متصادم قرار دی جاتی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی کوئی حیثیت نہیں،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دی جاتی ہے۔ موجودہ کیس ان معاملات پر نمٹایا جاتا ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل بھی غیرآئینی ہے، تحریک عدم اعتماد ابھی بھی زیرالتوا ہے، وزیراعظم تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد آرٹیکل 58کے تحت پابند تھے اور ہیں۔عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس نئے وزیراعظم کے انتخاب تک ملتوی نہیں کیا جائیگا، عدم اعتماد کامیاب ہونے پر اسی قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے، صدر، وزیراعظم اور اسپیکر کے احکامات سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں