عمران خان ایک دن کے لئے وزیر اعظم یا۔۔۔؟
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کوایک دن کے لئے وزیر اعظم بنا دیا،ہفتے کی صبح 10بجے انہیں اپوزیشن کے کم از کم177 عدم اعتماد کا سامنا کرنا ہوگااور وہ یقینا وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔انہونی کا وقت بظاہر گزر چکاہے، لیکن 100فیصد ختم نہیں ہوا۔عدالت نے آئین کے آرٹیکل5کو چھونے کی ضرورت نہیں سمجھی۔سارا معاملہ ڈپٹی اسپیکر کے سر ڈال کر فیصلہ سنا دیا۔اپوزیشن نے اس فیصلے کو سنہرے لفظوں میں لکھے جانے کی پیشگوئی بھی کردی۔پوزیشن نے آ کر اپنی 90کی دہائی والی سوچ سے کام چلانا ہے۔اسے اندازہ نہیں کہ پرانی سوچ کے ساتھ اسے عالمی سطح پر ماضی جیسی پذیرائی نہیں ملے گی۔کم از کم اس خطے میں اسے بہت جلد علم ہو جائے گا کہ نئی صورتِ حال کے تقاضے کیا ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے امریکہ کے کیا عزائم ہیں ان پر سے پردہ اٹھنے میں تھوڑاوقت لگے گا۔ایک بات جسے مبصرین فی الحال اہمیت نہیں دے رہے وہ یہ ہے کہ 2018سے پہلے عمران خان نے وفاقی سطح پر اپنی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا، ان ساڑھے تین برسوں میں اس نے کسانوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔7ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں،ان سے مستفید ہونے والوں کی بڑی تعداد آئندہ انتخابات میں دونوں (اپوزیشن اور پی ٹی آئی)میں سے کس کا ساتھ دے گی، اس کا پتہ انتخابات میں چلے گا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتائی گئی تیاری کی مدت کے چار ماہ ملانے کے بعد سات مہینے سمجھی جانی چاہیئے۔90دن میں انتخابات منعقد ہونے کا امکان ہے۔جبکہ حکومت5رکنی لارجر بینچ کے مختصر فیصلے کو چیلنچ کرنے کا عندیہ ظاہر کر رہی ہے۔ادھر آئی ایم ایف نئی حکومت کے ساتھ پاکستان کے معاشی استحکام کے لئے کام کرنے کا اقرار کر چکا ہے۔اب معاشی استحکام کے لوازمات کیا ہوں گے؟ کتنی نرمی کی جائے گی؟ جلد ہی سامنے آجائے گا۔یاد رہے کسی پارٹی یا درجن بھر پارٹیوں کے اتحاد پر مشتمل متحدہ اپوزیشن کاچند ماہ کے لئے اقتدار میں آنا ملکی معیشت کو کیا دے سکے گا،یہ بھی مستقبل کا معاملہ ہے جو تاحال دھندلکوں میں چھپا ہے۔آنے والے دنوں میں بہت سے مراحل طے کئے جانے کے آثار ہیں۔ماضی میں مسلسل کئی دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے بعد اگست 2018میں قومی خزانے میں قرضوں کی اقدساط ادا کرنے کی سکت نہیں تھی۔علاوہ ازیں اپوزیشن جانتی ہے کہ اس نے اپنی مقبولیت کے بل پر پی ٹی آئی کی حکومت کو گھر نہیں بھیجا۔پی ٹی آئی کے بعض مالدار اراکین قومی اسمبلی،جنہیں مقدمات کا سامنا تھا، اور وہ بعض خصوصی مراعات کے طالب تھے، مگر عمران خان انہیں قانون کا سامنا کرنے کے سوا کچھ دینے کو تیار نہیں تھے، یہ کامیابی ان ”ناراض اراکین“ کی مرہون منت ہے۔اپوزیشن یہ بھی جانتی ہے کہ اسے آعندہ انتخابات میں عوام سے ووٹ لینا ہوں گے۔عوامی رد عمل کا اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی تو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ عوام اس حکومتی تبدیلی کو جس زاویئے سے دیکھیں گے، وہی اہمیت کا حامل ہوگا۔ نیز آئین کا آرٹیکل 5اور دھمکی آمیز مراسلہ ابھی ٹیبل پر موجود ہے، سرد خانے میں ڈالے جانے کا عدالتی حکم نہیں آیا،سیاسی منظر کو سنوارنے یا بگاڑنے میں اپنا کردار ادا کرے گا،اوراس بارے میں لمبی تاخیر کے امکانات دکھائی نہیں دیتے،اس لئے انتخابات سے پہلے آئے گا۔ابھی اپوزیشن صرف مٹھائیاں کھا رہی ہے، جب اقتدار سنبھالے گی تب ہی اپوزیشن کو علم ہو گاکہ جو چاہے کر سکتی ہے یا صرف انتخاب کے عمل سے گزرنا ہوگا؟یہ درست ہے کہ عمران خان سے خائف یا ناراض بیوروکریسی وقتی طور پر جو کرسکتی ہے، ضرور کرے گی، مگر عوامی مسائل کا انبار سمیٹنا اتنا آسان نہیں۔ملکی معیشت کو نئی ڈگر پر ڈالنے والی قیادت یکدم منظر سے ہٹ جائے تو کام کی رفتار سست ہونے کے بارے ہر طرف سے آوازیں بلند ہوں گی۔یوکرین کو عراق کی طرح اپنا فرنٹ مین بناکر روس سے لڑا دیا مگر جیسے ہی روس نے سخت نتائج بھگتنے کی دھمکی دی،یوکرین کی زبانی کلامی مدد سے آگے نہیں بڑھا۔یوکرین آج بھی تنہا روس سے نبرد آزما ہے، اس کے شہر تباہ کئے جارہے ہیں مگر امریکہ اقوام متحدہ سے باہر نہیں نکل رہا۔یورپی یونین اور بھارت ڈالر کو بچانے کی بجائے سستی، گیس اور پیٹرول کی خریداری میں مصروف ہیں۔عدالتی فیصلہ آنے کے بعد عمران خان سابق وزیر اعظم نہیں رہے،انہوں اپنی فرائض منصبی سنبھالنے کے بعد معمول کی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں قوم سے خطاب کی خبریں بھی
گشت کر رہی ہیں۔مبصرین کی رائے ہے کہ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا، اہم مراحل باقی ہیں۔دھمکی آمیز مراسلہ قومی اسمبلی میں لانے کے امکانات موجود ہیں۔اگر آج کے اجلاس میں مراسلہ اراکین کے سامنے آگیا تو اس پر بحث کو مؤخر کرنا آسان نہیں ہوگا۔حکومتی تیوردیکھتے ہوئے عدم اعتماد پر ووٹنگ مراسلے پر بحث سے پہلے ہوتی نظر نہیں آتی۔ اور یہ عمل کتنا طویل ہوگا؟ اس کے جواب میں اپوزیشن کیا حکمت عملی اپنائے گی؟اس بارے کوئی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی کہ یہ مناظر پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملیں گے۔کس فریق میں کتنا دم ہے؟میدان میں اتریں گے تو معلوم ہوگا۔صورت حال قابو سے باہر ہوئی تو انہونی کو روکنا مشکل ہوجائے گا۔ فریقین کوچاہیے کہ ہوش سے کام لیں،کوئی درمیانی راستہ نکلیں۔10/11سال کی بڑی مصیبت کو دعوت نہ دیں۔ اسے گلے لگانا آسان مگر جان چھڑانا مشکل ہوتا ہے۔


