ساجد حسین،صحافت،جلاوطنی،گمشدگی اور موت

زبیر بلوچ
جب مجھے نوجوان اور باصلاحیت علم وادب سے باعلم بلوچ سیاست پر ایک مضبوط و مربوط گرفت رکھنے والے بلوچ صحافی و ادیب ساجد حسین کی پراسرار موت کی خبر ملی یقین مانیں مجھے کچھ بھی حیرت نہیں ہوئی، نہ میرے رونگٹے کھڑے ہوئے نا پریشانی نے چاروں اطراف سے گھیر لیا نہ ہاتھوں نے کام کرنے چھوڑ دیا اور نہ ہی میرا دل بیٹھ گیا کہ بلوچ سیاست،ادب اور بلوچ قوم کا ایک سرمایہ کسی دوسرے ملک میں ہم سے بچھڑ گیا، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ بحیثت انسان میرے اندر احساس نہیں ہے یا مجھے ساجد جیسے باعلم لوگوں کے جانے کا دکھ نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہم ہر روز ایسی دردناک اور کربناک اذیتوں کے سائے تلے جیتے آ رہے ہیں جو صرف ایک خاندان کے ساتھ نہیں بلکہ مجموعی طور پر ایک قوم سے وابستہ ہیں۔ بلوچستان میں آئے روز المیوں کا سامنا ہوتا فرق بس اتنا ہے کہ المیوں کی شکل مختلف ہیں، کبھی المیہ کسی ماں یا بہن کی آہ میں ہے کبھی کوئی خونی شاہراہ انسان کی روح کو جھنجھوڑتاہے تو کبھی سرے عام قتل، بلوچستان کی موجودہ نسل لہو کے ہمراہ جوان ہو رہی ہے۔
بلوچستان میں ایک غیرجانبدار صحافی ہونا کتنا مشکل اور کھٹن ہے اس بات کا احساس ساجد جیسے نوجوانوں کو بخوبی تھا، صحافت کسی بھی ملک میں سب سے باعلم طبقہ سمجھا جاتاہے اور ترقی یافتہ قوموں کے اہم ستون میں صحافت کا شعبہ اول صفحے کا کردار ادا کرتا ہے آج امریکا جیسی ریاستوں کی سپرطاقت میں بھی میڈیا کا ایک اہم کردار ہے جہاں امریکی میڈیا دنیا میں معلومات کا بہترین ذریعہ گردانا جاتا ہے لیکن اس بات کا احساس بھی باشعور معاشروں میں ہوتا ہے اور ساجد کا جنم جس زمین پر ہواہے وہاں علم اور تعلیم، حقیقت اور سچائی سب سے بڑے جرم سمجھے جاتے ہیں، کچھ ہی دن پہلے مولانا طارق جمیل نے جانے انجانے میں ایک بات بلکل سچ کہی کہ یہ پوری قوم جھوٹی ہے۔ یہاں حق کی بات کرنا سب سے بڑا جرم ہے جس کا ارتکاب ہونے والے ساجد کی طرح کسی دریا کے کنارے میں لہو لہوان ملتے ہیں۔ ساجد بھی اپنے انجام سے حیران نہیں ہوں گے بلکل بھی حیران نہیں ہوں گے کیونکہ ساجد نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے اور انہیں اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ سچی صحافت کرنے والوں کا انجام یہی ہوتا ہے اور جس نے بلوچستان دیکھا اور اس کے بارے میں معلومات رکھتا ہے اس کو اس بات کا علم ضرور ہے۔ جس وقت ساجد بلوچستان میں صحافت کر رہا تھا اسی دوران بلوچستان میں 44سے زائد صحافی حقیقی صحافت کرنے کی پاداش میں قتل ہوئے۔ جس میں کئی افراد بقول ساجد اس کے اپنے دوست بھی تھے۔ جہاں سچ بولنے پر پابندی عائد ہو جو سچ کہے گا مارا جائے گا ساجد بھی اسی جرم کے پاداش میں تاریک راہوں میں قتل کیا گیا اور ساجد کی موت بحیثت قوم کتنا بڑا سانحہ ہے اس بات کا احساس صرف ان کو ہے جو ساجد سے واقف ہیں۔
ساجد حسین ان صحافی اور دانشوروں میں سے نہیں تھے کہ اپنے علم و شعور کا پرچار فیسبک کے کمنٹس میں کرتے تھے بلکہ وہ نمود ونمائش سے اپنے آپ کو دور رکھنے والے اور دن رات اپنے کام پر توجہ دینے والے باصلاحیت شخص تھے، ساجد نے صحافت کا شعبہ کیوں اختیار کیا اس بات کا جواب شائد ساجد کے پاس ہی ہوگا لیکن صحافت کے شعبے میں جو کارائے نمایاں انہوں نے انجام دیا وہ سب کے سامنے ہیں، دی نیوز کے چیف ان ایڈیٹر ساجد کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی ذہین اور قابل نوجوان تھا جس سے اس کی ذہانت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ساجد زمین پر کام کرنا چاہتے تھے بلوچستان میں ہونے والے ناانصافیوں اور مظالم پر بولنا اور لکھنا چاہتے تھے لیکن ساجد پر لکھنے اور بات کرنے کی پابندی تھی جس کی تلاش میں انہوں نے اپنی زمین چھوڑ دیا، برسوں تک یو اے ای، اومان اور افریقہ میں بھی کسمپرسی کی زندگی بسر کرتے رہے اس دوران بھی انہوں نے اپنے کام کو روکا نہیں بلکہ ایک آن لائن انگریزی جریدے کی بنیاد رکھی تاکہ وہ بلوچستان میں ہونے والے ناانصافیوں پر آگاہی دے سکیں، انہی سخت اور مشکل حالات کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ساجد کبھی ادھر اور کبھی اْدھر بھٹکتارہا لیکن اپنے کام کو جاری رکھا۔ ساجد انگریزی اور بلوچی زبان پر عبور حاصل رکھنے والا نوجوان تھا جو دونوں زبانوں میں کمال لکھتا تھا
ساجد دانش کا پیکر تھا اور حق وسچائی کا ایک ایسا سپاہی جس نے حقیقت لکھنے کیلئے ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کیا اور آخری سانس تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھا، جب ساجد پاکستان میں تھے تو صحافت اور حق دشمن لوگوں نے اس کو یہاں رہنے نہیں دیا اور اسے مجبور کیا کہ وہ اپنی صحافتی کیئریر کا خاتمہ کریں یا دوسرے ہزاروں صحافیوں کی طرح خاموشی اختیارکرتے ہوئے نام نہاد صحافت کریں لیکن ساجد کو یہ دونو ں منظور نہیں تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کام کو بہت پسند کرتے تھے اور اسکو ہر حال میں جاری رکھنا چاہتے تھے، اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی ساجد نے اپنے کام کو جاری رکھنے کیلئے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ساجد نے اپنے دوران صحافت بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں کو اجاگر کیا، ڈرگ ٹریفکنگ پر لکھا اور دیگر مسائل پر کھل کر قلم آزمائی کی جو صحافت کے پیشے سے جڑے ہرفرد کی زمہ داری ہے۔
ساجد حسین کی سویڈن میں گمشدگی اور بعدازاں قتل نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، ساجد کو کس نے لاپتہ کیا؟ سویڈن میں ساجد کس کا کام خراب کر رہا تھا کہ اسے قتل کرنے کی نوبت آن پہنچی؟ ساجد کے قتل کا فائدہ کس کو ہوا؟ بلوچ ادیب و باشعور بلوچ نوجوانوں کے قتل میں کون ملوث ہو سکتا ہے؟ ساجد سویڈن میں کس جرم کا مرتکب ہوا تھا کہ اسے لاپتہ کرکے قتل کیا گیا؟ یہ کچھ ایسے سوالات ہیں جو ساجد کی موت سے جڑے ہیں جن کا کوج لگانا اہم ہے۔ ساجد کے پراسرار قتل نے یورپ میں مقیم ہزاروں بلوچ مہاجرین کو بھی خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ بلوچستان میں پچھلے کچھ سالوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے مہاجرت کی زندگی اختیار کیا ہے ساجد صحافت اور علم سے تعلق رکھنے والا انسان تھا، شاید وہ اس بات کا ادارک کرنے میں ناکام رہا ہوگا کہ علم و دانش کے دشمن صرف بلوچستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہیں اور جہاں بھی لوگ حقیقت کی بات کریں گے وہ محفوظ نہیں رہیں گے، جمالخشوگی کا قتل ایک زندہ مثال ہے جہاں ترکی میں قونصلیٹ کے اندر ان کو قتل کرتے ہوئے اس کی لاش کو بوٹی بوٹی کیا گیا اور آج تک کسی کو اس کی لاش کا پتا بھی نہیں چلا، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے مطابق بیس سالو ں کے دوران دنیا بھر سے 13سو سے زائد صحافی قتل ہو چکے ہیں۔ صحافی کو قتل کرنے کا واضح مقصد حقیقت کو دفنانے کی سازش اور منصوبہ بندی ہے۔
سویڈن حکام کو اپنی زمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ساجد حسین کے قتل میں ملوث کرداروں کو جلد از جلد بے نقاب کرنا ہوگا ورنہ ساجد کی موت کی زمہ داری سویڈیش حکومت پر ہوگی جہاں سے وہ لاپتہ اور بعدازاں انکی لاش ملی۔ سویڈن جیسے ممالک جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ سیاسی پناہ حاصل کرنے آتے ہیں تاکہ وہ آزادی سے اپنی بات کر سکیں، ایسے ممالک میں ساجد کی پراسرار گمشدگی اور بعدازاں ان کی موت سویڈیش حکام کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے؟ ساجد نے 2019میں سویڈن میں باقاعدہ سیاسی طور پر پناہ لی تھی، سویڈئش حکومت جتنی جلدی ساجد کی موت کے پیچھے چھپے محرکات کو آشکار کر سکتی ہے کرے کیونکہ یہ صرف ایک شخص کا قتل نہیں ہے بلکہ پوری ایک قوم کے سرمایہ کا قتل ہے۔ ساجد نہ بلکہ صحافت کے ذریعے بلوچ قوم کے مسائل اجاگر کر رہے تھے بلکہ وہ بلوچی ادب کیلئے بھی ایک اہم شخصیات تھے جبکہ حالیہ دنوں ایک انگریزی اور بلوچی ڈکشنری پر کام بھی کر رہے تھے۔ ساجد کے قاتلوں کی جلد از جلد نشان دہی کی جائے تاکہ قوم میں موجودبے چینی اور ابہام دور ہو جائے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں