جیکب آباد کے راستے گندم بلوچستان اور افغانستان اسمگل ہونے لگی

جیکب آباد (انتخاب نیوز) جیکب آباد کے راستے گندم بلوچستان اور افغانستان اسمگل ہونے لگی ،محکمہ خوراک ،پولیس اور مقامی بااثر ملوث ،بھاری رشوت کے عیوض جیکب آباد سے دن رات ٹرکیں کراس کرائی جانے لگیں،آٹے کے بدترین بحران کا خدشہ ،محکمہ خوراک بھی خریداری کا ہدف حاصل کرنے میںناکام،اسرکاری اور اوپن مارکیٹ میں قیمت کے فرق کی وجہ سے اس سال مقررہ ہدف پورا نہیں ہوسکے گا،ڈی ایف سی جیکب آبادتفصیلات کے مطابق جیکب آباد ،گڑھی خیرو ،ٹھل سمیت دیگر علاقوںکی گندم بلوچستان اور فغانستان اسمگل ہونے لگی ہے ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک کے افسران ،پولیس اور مقامی بااثروں کی ملی بھگت سے دن رات بھاری رشوت کے عیوض جیکب آباد کی حدود سے کراس کرایا جارہا ہے سندھ کے حدود سے کراس ہوکر گندم بلوچستان اور افغانستان اسمگل کی جا رہی ہے سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن سے بڑے پیمانے پر گندم اسمگل کی جا رہی ہے جس کے باعث کچھ ہی عرصے میںجیکب آباد سمیت سندھ میں آٹے کے شدید بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے فی ٹرک کراس کرنے کے دس سے پندرہ ہزار رشوت وصول کی جا رہی ہے اسمگلنگ کی وجہ سے ضلع جیکب آباد میں اس بار گندم کی خریداری کا مقررہ ہدف بھی محکمہ خوراک کی جانب سے پورا نہ ہونے کا امکان ہے اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر جیکب آباد خادم شر نے رابطے پر بتایا کہ محکمہ خوراک کی جانب سے ضلع جیکب آباد کے لئے گندم کی خریداری کا ہدف 4لاکھ 80ہزار مقرر کیا گیا تھا جواس بار حاصل نہیں کیا جا سکے گاگندم خریداری کے لئے ضلع میں 15سینٹر قائم کئے گئے ہیں،ٹھل کے دو فوڈ انسپکٹر س کی جانب سے خریداری سے انکار کرنے پر معطل کرنے کی محکمے کو سفارش کی جس پر دو فوڈ انسپکٹرس کو معطل کیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میںانہوں نے بتایا کہ گندم کی خریداری میں سب سے بڑی رکاوٹ سرکاری اور اوپن مارکیٹ میں قیمت کا فرق ہے ،کاشتکاروں کو فی بوری سرکاری قیمت 5500سے تین سو روپے زیادہ5800روپے مل رہے ہیںاس لئے کاشتکار اوپن مارکیٹ کو ترجیح دے رہے ہیں،گندم کی اسمگلنگ نہ روکی اور محکمہ خوراک نے خریداری کا ہدف پورانہ کیا تو آنے والے وقت میں گندم کا شدید بحران ہونے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں