پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری

لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ اشرف پرویزنے گورنر ہاؤس میں حمزہ شریف سے باضابطہ حلف لے لیا، سرکاری پروٹوکول بھی اس موقع پر گورنر ہاؤس پہنچ چکا تھا۔ حالانکہ اسی دوران گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کا ستعفیٰ مسترد کرکے ان کی حکومت بحال کردی تھی اور اپنی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ایسے مناظر عوام کو اس لئے دیکھنے پڑے کہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب اور رائے شماری کے موقع پر اسمبلی کے فلور پر اراکین اسمبلی آپس میں گتھم گتھا ہوگئے اور امن بحال کرنے پولیس ایوان میں داخل ہوگئی۔اب معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، دو رکنی بینچ نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے 5رکنی لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔چنانچہ 5رکنی لارجر بینچ تمام آئینی اور پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے فیصلہ سنائے گا،اس لئے کہ پنجاب اسمبلی کے فلور پر جو کچھ ہوا اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ایک خاتون رکن اسمبلی اس ہنگامہ آرائی کے دوران شدید زخمی ہوئیں اور تا حال کومہ کی حالت میں ہیں،ہوش میں نہیں آسکیں، اسپتال میں زیر علاج ہیں۔اس کے علاوہ بھی ایک سے زائد قانونی پیچیدگیاں ہیں جو تشریح طلب ہیں۔معززعدالت دوران سماعت مقدمے کے قانونی پہلو سامنے رکھے، لیکن اس مقدمے کے بعض اخلاقی پہلو بھی ہیں اور زیر بحث لائے جانے چاہیئیں۔کیا عدالت اخلاقی پہلوؤں کو اہمیت دے گی؟ یا ساری توجہ قانونی اور آئینی پہلوؤں پر مرکوز رکھے گی؟ یہ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔پنجاب کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ صوبہ ایک مہینے تک کسی وزیر اعلیٰ کے بغیر رہا۔اگر لاہور ہائی کورٹ تین لگاتارسماعتوں کے بعدایک سے زائد حکم جاری کرتے ہوئے ممکنہ متبادل حل تجویز نہ کرتی تو یہ مسئلہ جوں کا توں موجود رہتا۔یہ الگ بحث ہے کہ عدالت اس قسم کی تجویز دینے کی مجاز تھی؟اس سوال سمیت دیگر سوالات کا جواب 5رکنی بینچ میں اٹھائے جائیں گے،اس لئے کہ فریقین کی جانب سے پیروی کرنے والے وکلاء ملک کے معروف ماہر قانون ہیں۔ عام آدمی حیران ہے کہ 75سال میں پارلیمنٹ سادہ، غیرمبہم،شفاف اورواضح قانون سازی بھی نہیں کر سکی کہ ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک یا دوسرا قانونی مسئلہ ہاتھ میں لئے پارلیمنٹ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی دکھائی دیتی ہے۔اسے عدالت کی رہنمائی کرنی چاہیئے مگر یہ دودھ پیتے بچے کی طرح عدلیہ کی انگلی تھامے چل رہی ہے۔جب تک پارلیمنٹ اپنے فرائض ادا نہیں کرے گی ملک میں اسی قسم کے مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔آئین اس وقت باوقار ہو سکے گا جب اس کا ہر آرٹیکل دو اور دو چار کی طر جواب نہیں دے گا۔دنیا کے 193 ملکوں میں کون سا ایسا ملک ہے جہاں ایسے مناظر اس کثرت سے دیکھے جاتے ہوں؟ماضی میں جہاں یہ کھیل کھیلا جاتا رہا ہے وہ آج معاشی اور سیاسی لحاظ سے نچلی ترین سطح پر گر چکے ہیں، کوئی ان کا نام بھی نہیں لیتا۔اقوام متحدہ انہیں فاقہ زدگی سے بچانے کے لئے امدادی اپیلیں کرنے پر مجبور ہے۔یاد رہے امیر ملک دی جانے والی امداد کا خراج بھی وصول کرتے ہیں۔ پاکستان کو قدرت نے انتہائی قیمتی وسائل (سونا، چاندی، تانبا، لوہا، ماربل اور متعدد دیگر معدنیات سمیت) ہر شے سے نوازا ہے مگر ہمارے حکمران اپنی ناسمجھی سے اسے تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔معیشت اتنی کمزور ہے کہ بجٹ سازی سے پہلے آئی ایم ایف سے ڈکٹیشن لینا پڑتی ہے۔جون میں بجٹ کی منظوری پارلیمنٹ دے گی مگر مئی کے وسط میں بجٹ کے خدو خال آئی ایم ایف کے افسران ڈکٹیٹ کریں گے۔اس کے نتیجے میں 23کروڑ عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا،منافع خور مافیا نے ڈیزل پہلے ہی غائب کر دیا ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے ہیٹ ویو کی وارننگ دی جارہی ہے اور بجلی کی 8سے18گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے۔حکومت شہریوں کی مشکلات دور کرنے کی بجائے ان کے اسباب گنوا رہی ہے۔سابق حکومت کو کوس رہی ہے۔ کوسنے کایہی کام چند ہفتے پہلے تک سابق حکومت کرتی رہی تھی۔کیا پاکستانی عوام کی قسمت میں ایسے نااہل حکمران لکھے تھے یا یہ سب کچھ عوام اور حکمرانوں کے غلط اعمال کا نتیجہ ہے؟ 75 سال حکمران غلطیاں کرتے رہے اور عوام ”آوے آوے“ اور ”جاوے جاوے“ کے نعروں پر والہانہ رقص کرتے رہے۔واضح رہے قدرت انفرادی غلطیوں کا انفرادی اور اجتماعی غلطیوں کا حساب اجتماعی طور پر لیا کرتی ہے۔عراق، شام لیبیاء اور بہت سارے ممالک آج نمونہئ عبرت بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے عوام اور حکمرانوں کو استثناء حاصل نہیں۔انہیں جواب دہی کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ معافی کے لئے اَللہ نے اعترافِ جرم(رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسِنَا) اور اس کے ساتھ اصلاح کی شرط رکھی ہے۔بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے حکمران اصلاح کے آمادہ نہیں۔ لگتا ہے پاکستانی حکام اور عوام کو حاصل اصلاح کی مہلت دھیرے دھیرے ختم ہوتی جارہی ہے۔عالمی تاریخ سے سبق لینے کی ضرورت تھی‘بوجوہ نہیں لیا گیا۔تاخیر نہ کی جائے، جتنی تاخیر ہوگی معاملات اتنے زیادہ بگڑیں گے، معاملات کو اتنا نہ بگاڑا جائے کہ ناقابل اصلاح ہو جائیں۔یہ حقیقت فراموش نہ کی جائے کہ سیاسی بگاڑ عوامی زندگی کے لئے معاشی مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔مسلم لیگ نون اور ان کے اتحادیوں کو یاد ہونا چاہیئے کہ ماضی میں بھی عمران خان نے اسلام آباد پہنچنے کی ایک کال دی تھی۔ان دنوں مسلم لیگ نون کی حکومت تھی،2013کے انتخابات میں کی گئی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے ایک عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ تھا،خیبر پختونخوا کے قافلے کو انتظامی طریقے سے روکنے کی کوشش کی گئی، رات بھر مقابلہ جاری رہا،اگلے روز وفاقی حکومت نے طاقت کا استعمال ہٹا لیا، اورقافلہ اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔اگر آج بھی حکومت کی جانب سے وہی فارمولہ آزمایا گیا تو یاد رہے ویسا ہی نتیجہ برآمد ہوگا۔اس وقت بھی عمران خان اپوزیشن میں تھا۔لیکن آج وہ سابق وزیر اعظم ہے۔ ماضی میں عوام اس کی حکمرانی کے انداز سے بے خبر تھے،اب صورت حال مختلف ہے،مسلم لیگ نون اور اس کی اتحادی جماعتیں عمران خان کی حکومتی کارکردگی کو نہ مانیں، مگر عوام نے عمران خان کے دور میں جو فائدے دیکھے ہیں،ان فوائدسے یکدم انکاری نہیں ہوں گے۔علاوہ ازیں سفارتی مراسلے کو جس طرح عوامی مسئلہ بنا دیاگیا ہے، رمضان کے مہینے میں اتنے بڑے جلسوں کا انعقاد غیر معمولی سیاسی عنصر ہے،اس سے آنکھیں بند نہ کی جائیں۔یہ بھی یاد رہے عمران خان کو کھونے کا ڈر نہیں، البتہ پانے کے چانسز بڑھ گئے ہیں۔مقتدر حلقے یقینا سوچ بچار میں مصروف ہوں گے لیکن ان کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں۔کوشش کی جائے کہ بہتر اور مناسب راستہ منتخب کیا جائے، کسی نئے اور مزید گہرے گڑھے میں کودنے سے بچا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں