بلوچ طلبہ کی ہراسگی پر بننے والے کمیشن کو رانا ثنا نے چیلنج کیا، ایمان مزاری
اسلام آباد (انتخاب نیوز) ماہر بین الاقوامی امور، قانونی مشیر ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں شیئر کیا ہے کہ نئی حکومت کی طرف سے ایک پیغام بلوچ طلباء کو دیا گیا ہے، ایک کمیشن بنایا گیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جس میں بلوچ طلباء کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انہیں ہراساں کیا جاتا ہے،اس کمیشن کا مقصد تھا کہ بلوچ طلباء کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں وہ اس قسم کے واقعات کے تدارک کیلئے آواز اٹھا سکیں۔ وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا،یہ واضح ہو گیا ہے کہ نئی حکومت ہو یا پرانی بوٹ پالش میں سب ماہر ہیں اور جب بلوچستان کی بات آتی ہے بلوچستان کی یوتھ کی بات آتی ہے توکسی میں ہمت نہیں کہ ان کی بات سن سکیں ان کیلئے کئے گئے اقدامات پر عملدرآمد دور کی بات انہیں سننے کیلئے بھی کوئی تیار نہیں،وہ تو یہ کمیشن ہی برداشت نہیں کر سکتے، میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں نئی حکومت کو کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہم چپ کر کے بیٹھ جائینگے تو یہ آپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔


