اقوام متحدہ ڈس انفارمیشن کی روک تھام کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دے، بلاول بھٹو کا مطالبہ

اسلام آباد:وزیر خارجہ اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے غلط معلومات اور ان کے نیٹ ورکس کا پتہ لگانے، تجزیہ کرنے اور بے نقاب کرنے کے لیے حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہاقوام متحدہ ڈس انفارمیشن کی روک تھام کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دے،اسک فورس بین الاقوامی سطح پر غلط معلومات کی روک تھام کے لیے رکن ممالک اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مسلسل بات چیت کر سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کے روز انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے فروغ اور تحفظ کے لیے ‘ڈس انفارمیشن’ کا مقابلہ کرنے والے گروپ آف فرینڈز کے اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو عوام اور نجی حیثیت میں آن لائن اور آف لائن غلط معلومات کی روک تھام کے لیے ایک بین الاقوامی لائحہ عمل ہونا چاہیے، تجاویز دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کی جانب سے فروغ دی جانے والی معلوماتی مہموں کے ذریعے عوامی آگاہی بڑھانے اور غلط معلومات کے خلاف سماجی مزاحمت اور لچک پیدا کرنے پر زور دیا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ غلط معلومات اور ان کے نیٹ ورکس کا پتہ لگانے، تجزیہ کرنے اور بے نقاب کرنے کے لیے حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ اور اس کی ایجنسیوں کو رکن ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں معلومات کا تجزیہ کرنے اور حقائق کی جانچ پڑتال اور خاص طور پر آن لائن معلومات کی چھان بین کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے، قومی اور بین الاقوامی محققین کے ساتھ ساتھ غلط معلومات کے خلاف لڑنے والے اداروں کو مالی اور تیکنیکی مدد فراہم کرنی چاہیے۔ بلاول بھٹو زر داری نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کا محکمہ اطلاعات اس تناظر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، دنیا کو غلط معلومات کے خلاف فائر وال بنا کر انسانی حقوق، کمیونٹیز اور ریاستوں کے درمیان تعلقات میں غلط معلومات کے منفی اثرات کم کرنے کے لیے تعاون کے ذریعے توجہ مرکوز کرنی چاہیے، اقوام متحدہ کو قومی اور بین الاقوامی سرگرمیوں کے لیے ایک متحرک قوت کے طور پر کام کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت اقدامات کے لیے راہنما اصول تشکیل دینا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے خطاب کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کو اس سے متعلق نجی شعبوں، سوشل میڈیا مہم اور دیگر غیر سرکاری محکموں کی پابندی کے لیے قواعد اور ضوابط تشکیل دینے چاہئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں