بلوچستان میں پشتون قوم کو زندگی کے ہر شعبہ میں نظر انداز کیا گیا، پشتونخوامیپ
پشین (انتخاب نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس دوقومی صوبے میں دونوں اقوام کی قومی برابری عملاً تسلیم کرنے کے بغیر بنیادی مسائل کا حل بھی ممکن نہیں کیونکہ اس دوقومی صوبے میں پشتون قوم کو زندگی کے ہر شعبے میں نظر انداز کرتے ہوئے اْن پر ترقی وخوشحالی اور روزگار کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں صرف ایم پی اے فنڈ کے نام پر ہمارے عوام کو ورغلانے والے ایک کھرب سے زائد ترقیاتی بجٹ میں پشتون علاقوں کیلئے کچھ بھی نہیں۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر محمد عیسیٰ روشان، ضلعی ڈپٹی سیکرٹری حاجی عبدالحق ابدال، پارٹی کے بزرگ رْکن محمد اکرم آکا، اسماعیل خان اور عنایت اللہ عرف امیر صاحب نے کلی غونزہ برشور میں پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جس میں پارٹی کے صوبائی کمیٹی کے رکن خلیل خان ترین اور علاقائی سیکرٹری حاجی عصمت اللہ کمالزئی نے بھی شرکت کی اور چار خاندانوں نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کو زندگی کے ہر شعبے میں درپیش سخت ترین مشکلات اور اذیت ناک صورتحال ہماری قسمت نہیں بلکہ ہر قسم کے معدنیات اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے مالک وطن کے باسی سیاسی،معاشی او رثقافتی واک واختیار سے محرومی اور قومی محکومی کے باعث مشکل ترین اور مسافرانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر علاقے میں صحت،تعلیم اور روزگار کی سہولتوں سے محرومی،پینے کے صاف پانی کی عدم موجودگی، زراعت کی بربادی، مسلسل خشک سالی اور جاری مہنگائی نے ہمارے غریب عوام کی درپدری،غربت، بھوک وافلاس میں مزید اضافہ کردیا ہے جبکہ عوام کے ٹیکسوں کے نتیجے میں بننے والی حکومتوں کے بجٹ میں ہمارے عوام کی زندگی میں بہتری لانے کیلئے کچھ نہیں اور کرپشن کے ذریعے عوامی خزانے کا لوٹ مار جاری ہے۔ اور سرکاری محکموں میں سرعام ترقیاتی اسکیمات مخصوص پرسنٹیج کے ذریعے فروخت کیئے جاتے ہیں جس کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوقومی صوبے میں پشتون قوم اور پشتون علاقوں کے ساتھ تعصب پر مبنی اور بدترین امتیازی سلوک مزید قابل برداشت نہیں۔غیور عوام نے پارٹی کے پلیٹ فارم پر متحد ومنظم ہوکر اس سنگین صورتحال سے نجات کیلئے جاری جدوجہد کو مزید تیز کرنا ہوگا اور سیاسی جمہوری جدوجہد کومزید وسیع اور فعال کرتے ہوئے ہر سطح پر احتجاجی تحریک چلانے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔


