پشتونوں کو سندھ سے زبردستی نکال نے کی مذمت کرتے ہیں ،ملک امان اللہ کاکڑ
کوئٹہ(این این آئی) متحدہ قبائل فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر چیف آف قبائل ملک امان اللہ خان کاکڑ نے سندھ میں پشتونوں کے کاروبار بند کرانے اور زبردستی وہاں سے نکالنے کی مذمت کرتے ہوئے وفاقی اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعات میں ملوث شرپسندوں کو گرفتار کرکے سخت سزاد ی جائے اورپشتونوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔یہ بات انہوں نے بدھ کو ملک نصیب اللہ بیٹنی،ملک حمید اللہ کاکڑ،ولی محمد افغان، سردار جمیل خان،سردارشادی خان، ملک نسیم خان، چیئرمین عبدالرازق،اسرارخان کاکڑ،حمید اللہ خان اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ ملک امان اللہ خان کاکڑ نے کہا کہ صوبہ سند کے چند شہروں میں لسانی بنیادوں پر بعض شرپسند عناصر کی جانب سے پشتونوں کے کاروبار کو زبردستی بند کیا جارہا ہے جس سے ملک کے مختلف اقوام میں قوم پرستی اور لسانیت کی جنگ شروع ہوگی اور نفرت کی اس آگ سے پورے ملک کا امن خراب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نی روز اول سے سیاسی،سماجی اور متحدہ قبائل فیڈریشن پاکستان کے پلیٹ فارم سے محب الوطنی،بھائی چارے،امن و امان کی حوالے سے جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب 1973ء میں کراچی میں پشتونوں کے ساتھ ظلم و نا انصافی اور زیادتی کی جارہی تھی تب ملک باز محمد خان مہترزئی نے متحدہ قبائلفیڈریشن پاکستان کی بنیاد اسی خاطر رکھی جو پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام کا ایک گلدستہ ہے جس میں پشتون،بلوچ،سندھی،پنجابی،سرائیکی، کشمیری اور دیگر اقوام شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں حیدرآباد،سکھر اوردیگرعلاقو ں میں ایک سازش کے تحت پشتونوں کے کاروبار بند کرائے جارہے ہیں اورانہیں سندھ سے بے دخل کیا جارہاہے جو کسی بھی طرح درست اقدام نہیں ہے اس کی متحدہ قبائل فیڈریشن پاکستان مذمت کرتا ہے اور وفاقی ٗسندھ حکومت،پولیس اورانتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ سندھ میں پشتونوں کے کاروبار کو زبردستی بندکرانے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس میں ملوث شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے سخت سزادی جائے اور پشتون سمیت دیگر کاروبار کرنے والے افراد کے تحفظ کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔


