وفاق کو بلوچستان بالخصوص لسبیلہ میں سیلاب کی تباہ کاری نظر نہیں آرہی، جام کمال
لسبیلہ (انتخاب نیوز) سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ لسبیلہ سمیت پورا بلوچستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے لیکن افسوس وفاق کو لگتا ہے کہ لسبیلہ میں کچھ ہوا ہی نہیں اس قدرتی آفت کی مشکل گھڑی میں ایک وفاقی وزیر تک نہیں آیا کم از کم وفاقی وزیر مواصلات کو لسبیلہ آنا چاہیے تھا اور کچھ نہ سہی آکر فوٹو سیشن ہی کرتے شائد انکے ساتھ آنے والوں میں کوئی سنجیدہ ہوتا اور لسبیلہ میں پچھلے پانچ چھ دنوں سے کراچی کوئٹہ قومی شاہراہ بند ہے شائد وفاق میں سیاسی ہلچل ہے اس لئے وفاق کو بلوچستان بالخصوص لسبیلہ کی تباہی نظر نہیں آرہی سیاسی ہلچل ہماری حکومت میں بھی ہوئی تھی جب میرے خلاف عدم اعتماد لائی گئی لیکن میں نے اس وقت بھی صوبے کے مختلف علاقوں کے دورے جاری رکھے۔ یہ بات انہوں نے ہفتہ کو حب میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے ایک ہفتہ قبل پیش گوئی کی تھی کہ ملک بھر میں بارش ہونگی تو ہم توقع کررہے تھے کہ بلوچستان حکومت خاص پی ڈی ایم اے سیلابی صورتحال کے لیے تیاری کرتے ہماری حکومت میں بھی سیلاب آئے لیکن ہونا ایسے چاہیے تھا کہ پیشگی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کرتے انکو ہرممکن تیاری کرنے کی ہدایت کی جاتی قبل از سیلابوں کے فنڈز جاری کی جاتی لوگوں کو تیار کیا جاتا لیکن مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کچھ نہیں ہوا اب شائد کچھ سرکاری مشنری کام کررہی ہے لیکن جو موجودہ صورتحال میں ہونا چاہے وہ نہیں ہورہا یہ دو چار ٹینٹ سے کیا ہوگا لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے ہیں بلکہ بہت سارے ایسے بھی علاقے ابھی تک ہیں جہاں پانی ختم نہیں ہوا ہے جہاں ابھی انتظامیہ پہنچ نہیں پائی ہے اور وہاں ہیلی کاپٹر سے بھی کھانے پینے کی اشیاء اوپر سے پھینک بھی نہیں سکتے کیونکہ وہ پانی میں گرنے سے ناقابل استعمال ہوجائیں گے،ایک سوال کے جواب میں جام کمال خان نے کہا کہ لسبیلہ میں اتنے بڑے سیلاب کے بعد ابھی بھی پاک فوج کے ساتھ مختلف فلاحی ادارے اور ایدھی فاؤنڈیشن ریسکیو آپریشن کررہے ہیں انتظامیہ نظر نہیں آرہا سرکاری محکموں کی مشنری کہاں ہیں اگر سرکاری محکموں کے پاس مشنری نہیں ہے تو کم از کم سرکاری پیسے جاری کرے کرائے پر مشینری لائیں لوگوں کو ریلیف دیں اتنے مشکل وقت میں حب جیسے بڑے علاقے کا اسسٹنٹ کمشنر نہیں ہے بیلہ جو سیلاب سے شدید متاثر ہے وہاں کل اسسٹنٹ کمشنر نے چارج سمبھالا ہے اب جب بڑے سرکاری دفاتروں میں آفیسران کی کرسیاں خالی ہیں تو ایک تحصیلدار یا پٹوا ری کیا کرسکتے کیونکہ انکی کوئی سنتا نہیں پورے ضلع میں رابطوں کا فقدان ہے لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا کہ کس سے رابطہ کریں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حالیہ سیلابی صورتحال میں ڈی سی آفس میں ایمرجنسی سینٹر قائم کیا جاتا. انہوں نے کہا کہ حب میں اتنی بڑی صنعتیں موجود ہیں لیکن لسبیلہ میں سیلاب متاثرین کے لیے کوئی امداد نہیں معلوم کرنے پر کچھ صنعتکاروں نے کہا کہ ہم نے سی ایس آر کا فنڈ ڈی سی لسبیلہ کو دیا اب سمجھ نہیں آرہا ڈی سی لسبیلہ نے فنڈز کہاں رکھے ہیں ڈی سی لسبیلہ مکمل غیرذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں بلکہ ہم لسبیلہ چیمبر آف کامرس کے ذمہ داران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایک پریس کانفرنس کریں اور صنعتکاروں کے ساتھ میڈیا کے ذریعے بتائیں کہ کتنا فنڈ ڈی سی کو دیا ہے تاکہ عوام ڈی سی سے سوال کرسکے.ایک سوال کے جواب میں جام کمال خان نے کہا کہ نے کہا کہ میں ملک سے باہر تھا اسلیے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جا نہ سکا میں کل کراچی پہنچا ہوں اور آج اپنے حلقے میں ہوں کچھ کام کے سلسلے میں باہر ملک گیا تھا لیکن عوام ان سے بھی سوال کریں جو یہاں موجود ہیں وزیر ہیں سرکار انکی ہے ادارے ان کے ہیں عوام ان سے سوال کریں کہ وہ کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ملک سے باہر تھا مگر فون پر مسلسل رابطوں میں تھا آرمی چیف کے اسٹاف سے چیف سیکرٹری بلوچستان کورکمانڈر بلوچستان اور کمشنر قلات ڈویژن کے ساتھ رابطے میں تھا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مشکل وقت میں ہم سب کی ذمہ داری ہے لوگوں کی مدد کرنا انکو ریلیف دینا یہ الگ بات ہے کہ جس کی حکومت ہوگی اس پر زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو مشکل وقت میں نکالنے اور انکی فلاح و بہبود پر کام کرے۔ سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان نے حب میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں محمد یوسف بلوچ، ممتاز مگسی و دیگر سے تعزیت کی۔


