وزیراعظم کی بلوچستان میں ریلیف سرگرمیوں کی رپورٹ 24 گھنٹے میں جمع کرانیکی ہدایت
کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے لوگوں کو رلیف دینے، امداد فراہم کرنے اور ان کے نظام زندگی کو بحال کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو اقدامات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کرنے کی ہدایت دے دی۔وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو سیلاب سے متاثر افراد کو امداد دینے کی تفصیلی رپورٹ بھی ہر چوبیس گھنٹے بعد جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔مون سون کی موسلادھار بارشوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی ہے اور سیلاب کی وجہ سے سیکڑوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ہزاروں گھر زیر آب آچکے ہیں۔اسلام آباد میں متعلقہ حکام سے ملاقات میں وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ صوبے میں بالخصوص بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی، خضدار، کوہلو، کیچ، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ اور سبی میں امدادی رقوم کی تقسیم میں تیزی لائی جائے۔انہوں نے حکام کو یہ بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بھی امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں۔شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ شہری اپنی تکالیف میں کمی لانے کے لیے حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں، انہوں نے حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ خوراک، ادویات کی فراہمی اور لوگوں کو منتقل کرنے میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیر اعظم نے ڈینگی جیسی بیماریوں کے پھیلا کو روکنے کے لیے سیلاب زدہ علاقوں کی صفائی اور فیومیگیشن کو یقینی بنانے کا حکم دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے گیسٹرو جیسی بیماریوں کو روکنے کے لیے سیلاب متاثرین کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔متعلقہ حکام کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں خوراک، طبی کیمپس اور عارضی رہائش گاہیں بنائی گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے تعاون کے ساتھ امدادی کارروائیوں کو مزید بڑھا دیا گیا ہے جبکہ دیگر صوبوں کی حکومتوں کے تعاون سے بھی سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں اور لوگوں کی مدد کا عمل جاری ہے۔


