صوبے میں نئی حلقہ بندیاں بلوچ پرستی پر مبنی فیصلہ ہے، پشتونخوا میپ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی پریس ریلیز میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ صوبے کی نئی حلقہ بندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے پشتونوں کے ساتھ ناانصافی اور بلوچ پرستی پر مبنی فیصلہ قرار دیا گیا ہے جس پر پارٹی دْکھ وافسوس کا اظہار کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ اور اس کی تمام آبادی کی اکثریت پشتونوں پر مشتمل ہے اس اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے ناروا ہتھکنڈوں سے پشتونوں کو محروم کرنے اور اس طرح ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو پائمال کرنے کا عمل نہ یہ کہ قابل قبول نہیں بلکہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک لاکھ 75ہزارپر مجوزہ حلقہ قبول نہ کرنا اور ایک لاکھ 67ہزار پر موسیٰ خیل ضلع پر مشتمل حلقہ کو بارکھان میں ضم کرنا، ایک لاکھ 62ہزار شیرانی ضلع کے حلقے کو ختم کرکے ژوب میں شامل کرنا اور ایک لاکھ 60ہزار کی آبادی ضلع زیارت کو ہرنائی میں شامل کرنا اور دوسری جانب بلوچ علاقوں میں ضلع آوران ایک لاکھ 21ہزار،جھل مگسی ایک لاکھ 48ہزار، ایک لاکھ 62ہزارپر خاران جبکہ ایک لاکھ 67ہزار پرکیچ اضلاع اور حلقے قائم ہیں۔ دراصل یہ الیکشن کمیشن کی واضح طرف داری کے سوا کچھ نہیں اور اس طرح صوبے میں پشتون آبادی الیکشن کے ترازور کے معیار کو سمجھ چکے ہیں۔


