بلوچستان میں سیلاب کے نقصانات پر وفاقی حکومت دو ارب روپے کا ریلیف دے، اسد بلوچ
پنجگور (نمائندہ خصوصی) صوبائی وزیر زراعت میر اسد اللہ بلوچ نے پنجگور میں حالیہ سیلاب اور بارشوں سے کھجور، کپاس، انگور اور دیگر زرعی اجناس کو پہنچنے والے نقصانات پر وفاقی حکومت سے دو ارب روپے کے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پنجگور میں زرعی شعبہ حالیہ بارشوں سے کافی متاثر ہوا ہے کھجور کی فصل مکمل تباہ ہوگئی ہے جس سے کاشتکار طبقہ نان شبینہ کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مرکز سے بلوچستان کے سیلاب زدگان کے لیے پچاس ارب روپے کی ڈیمانڈ کی تھی تاکہ بلوچستان میں متاثرین کی بحالی کا عمل فوری طور شروع کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے دیگر اضلاع کی طرح پنجگور کے کاشتکار بڑے پیمانے پر مالی نقصانات کا دوچار ہوگئے ہیں، ان کی تیار فصلیں جن میں کھجور کی فصل خاص کر موزاتی مکمل طور پر گل سڑھ کر ناکارہ ہوچکی ہے، جو اعداد وشمار نقصانات کے حوالے سے اب تک ضلعی انتظامیہ کو موصول ہوئے ہیں صرف کجھور کے کاشتکاروں کا نقصان ایک ارب روپے ہے، اسی طرح دیگر فصلات کو اسی تناسب سے نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی نقصانات کے علاوہ لوگوں کے مکانات بھی گرے ہیں ایک درجن سے زائد قیمتی جانیں بھی سیلاب سے ضائع ہوئیں میر اسداللہ بلوچ نے نقصانات بہت زیادہ ہیں صوبائی اپنے وسائل سے ان نقصانات کا تلافی نہیں کرسکے گا وزیراعظم پاکستان بلوچستان کے مفلوک الحال لوگوں کی مشکلات کا احساس کرکے فوری امداد دے تاکہ متاثرین کی پریشانیاں کم ہوسکیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک اکائی ہے جب کسی اکائی پر آفت پڑتا ہے تو مرکز کی ذمہ داری بنتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرے میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سے قوی امید ہے کہ بلوچستان کے سیلاب زدگان خصوصاً پنجگور کے کاشتکاروں کی بحالی کے لیے فوری امداد دینگے اس موقعے مرکزی رہنما نوراحمد شکیل احمد ضلعی ارگنائزر رحمدل جلیل سیلانی آصف مجید میر سلیمان سدوزئی عبدالباقی اور دیگر موجود تھے۔


