اساتذہ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال، بلوچستان لیبر فیڈریشن نے حمایت کا اعلان کردیا

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان حکومت اور محکمہ تعلیم کے حکام بالا جی ٹی اے بی آئینی کے پلیٹ فارم سے اپنے جائز و تسلیم شدہ مطالبات کے حل کیلئے اپنی قیمتی جانیں داؤ پر لگاکر تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں حکومت بھوک ہڑتالی اساتذہ سے فوری مذاکرات کرکے انکے مطالبات کا نوٹیفکیشن جاری کرے گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی کی احتجاجی تحریک بلوچستان بھر کے اساتذہ کے جائز حقوق کی علمبردار بردار بن گئی ہے۔ بلوچستان کے تمام اداروں کے ملازمین و مزدور 10 اگست کو گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی کے دھرنے میں شرکت کریں۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان کی سربراہی میں مزدور تنظیموں کے قائدین نے گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی کے تا دم مرگ بھوک ہڑتالی پر بیٹھے قائد اساتذہ حاجی مجیب اللہ غرشین و دیگر سے اظہار یکجہتی کے موقع پر کیا اور انہیں اپنی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان نے حکومت کی ہٹ دھرمی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے حسی اور بیڈ گورننس کی انتہا ہے فوری طور پر اساتذہ کے مسائل حل کئے جائیں اور تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے اساتذہ کا جانی نقصان ہونے سے بچایا جائے۔ یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ تین صوبوں میں جے وی ٹیچرز گریڈ 14 میں ہیں جبکہ بلوچستان کے جے وی ٹیچرز گریڈ 9 میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔اس تفریق کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ یہ بلوچستان حکومت کی نا اہلی ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت درست لیبر قوانین نہیں بنا سکی۔ وفاق کی جانب سے بلوچستان کے ملازمین کی مراعات میں اضافے سے محروم رکھنے کی پالیسی صرف بلوچستان کے لوگوں کیلئے ہے سندھ پنجاب خیبر پختونخوا میں ٹریڈ یونین کی آزادی ہے صرف بلوچستان میں اس پر پابندی ہے۔ تین صوبے بجٹ میں اعلان کردہ تنخواہیں ادا کرچکے بلوچستان کے ملازمین اپنے بقایات جات نہ ملنے پر سراپا احتجاج ہیں۔ صدر خان زمان نے کہا کہ بلوچستان لیبر فیڈریشن دس اگست 2022ء کو گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی کے احتجاجی دھرنے کی مکمل حمایت کرتی ہے اور تمام تنظیموں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اساتذہ کے دھرنے میں بھرپور شرکت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں