پنجگور یونیورسٹی آف مکران کے وائس چانسلر کی تبدیلی تک احتجاج جاری رہیگا، طلبا
یپنجگور (نمائندہ خصوصی) پنجگور یونیورسٹی آف مکران کے طلباءشیر جان بلوچ، آل پارٹیز پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین میر نذیر احمد، سول سوسائٹی کے صدر افتخار بلوچ، حافظ صفی اللہ، حق دو تحریک کے ملا فر ہاد، اشرف ساگر نے مشترکہ پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پچھلے 40 دنوں سے یونیورسٹی آف مکران کی مکمل تالہ بندی کرتے ہوئے ایک ، متنازع وائس چانسلر مالک ترین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں کہ یہ شخص جس کا ماضی داغدار ہے، جس کے اوپر بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، جسے لورلائی یونیورسٹی سے غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر تین مہینے کے اندر نکالا گیا ہے، جس کو ایچ ای سی کی جانب سے تین سال کی سزا دی گئی ہے، جس کے اوپر پلیجیرزم کے مقدمات ہیں اس شخص کو یونیورسٹی آف مکران کا وائس چانسلر ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ دوران احتجاج ہم نے یونیورسٹی آف مکران کی مکمل تالہ بندی کرکے یونیورسٹی کو ہر قسم کی سرگرمی کیلئے بند کردیا تھا اور ساتھ ہی پنجگور کے تمام طلباءکے ساتھ مل کر یونیورسٹی سے لیکر ڈپٹی کمشنر کے آفس تک ہم نے احتجاجی ریلی بھی نکالی ہے، ایک دن پورے پنجگور میں شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی کال بھی دی ہے جس کے بعد پنجگور کا مرکزی بازار مکمل طور پر بند ہوگیا ہے اور وقتاً فوقتاً پریس کانفرنس کے ذریعے پورے بلوچستان کے طلباءو طالبات سمیت ہر طبقہ فکر کے افراد کو اپنے مو¿قف سے آگاہ کیا ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ متنازعہ وائس چانسلر کی برطرفی کا مطالبہ صرف یونیورسٹی آف مکران کے طلبائ کا نہیں بلکہ پنجگور کے 18 اسٹیک ہولڈرز جماعتیں جن میں طلباءو طالبات یونیورسٹی آف مکران، پنجگور سول سوسائٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی، بلوچستان نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی، نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی، حق دو تحریک بلوچستان، بی ایس او، بی ایس او پجار، بی ایس ایف، بی ایس اے سی، جمعیت طلباءاسلام، نوجوان اتحاد سوردو سریکوران اور سول سوسائٹی پروم شامل ہیں۔ یونیورسٹی آف مکران کے طلباءنے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چالیس دنوں سے یونیورسٹی کا تدریسی عمل صرف اور صرف ایک شخص کی انا پرستی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے متاثر رہا، آج ہم طلباءمختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے یہ فیصلہ کیا ہے یونیورسٹی آف مکران میں 10 اگست 2022ءسے تدریسی عمل کا آغاز ہوگا اور تعلیمی سرگرمیاں بحال ہوں گی تاہم متنازع وائس چانسلر کے خلاف احتجاج شدت کے ساتھ جاری رہے گا اور یونیورسٹی آف مکران کے طلبا و طالبات یونیورسٹی کے احاطے میں کیمپ لگا کر علامتی احتجاج پر بیٹھیں گے اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عبدالمالک ترین کی جگہ کوئی اور معزز اور صاحب کردار شخص کو وائس چانسلر تعینات نہیں کیا جاتا۔ طلباءنے مزید کہا کہ اس دوران عبدالمالک ترین نے یونیورسٹی آف مکران میں آنے کی کوشش کی تو اس صورتحال میں ہم فوراً یونیورسٹی کی مکمل تالہ بندی کریں گے اور پنجگور کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پورے پنجگور میں بھرپور احتجاج کریں گے۔ اس صورتحال میں کسی بھی غیر یقینی صورتحال کی زمہ دار بھی مالک ترین ہوگی۔ اس کے ساتھ ہم یونیورسٹی انتظامیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اگلے ہفتے لیپ ٹاپ تقسیم کریں۔


