قلعہ عبداللہ میں 22 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے، 2 لاشیں نکال لی گئیں

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے افغانستان سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ میں 22 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جن میں سے اب تک دو کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ باقی کی تلاش جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منیر احمد کاکڑ کا کہنا ہے جمعے کو علاقے میں نہ صرف بے تحاشا بارش ہوئی بلکہ بارش کے باعث پہلے سے پانی سے بھرے ہوئے دو تین ڈیم ٹوٹ گئے جس کے باعث صورتحال خراب ہوگئی ہے۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے حکام کا کہنا ہے کہ قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلوں کے باعث مجموعی طور 200 سے زائد افراد پھنس گئے تھے جن میں سے 25 بچوں سمیت 70 کے قریب افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔حکام کے مطابق سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد میں سے 15 ایک ٹریکٹر کی ٹرالی پر سوار تھے جو کہ جان بچانے کی کوشش کے دوران پانی میں بہہ گئے۔ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منیر احمد کاکڑ نے فون پر بتایا کہ ٹریکٹر پائیزئی سیدان کے علاقے میں پھنس گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ وہاں جو عینی شاہدین تھے ان کے مطابق ٹریکٹر کی ٹرالی پر 15 افراد سوار تھے جو کہ ٹرالی کی پانی میں الٹنے کے باعث بہہ گئے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ بہہ جانے والے ان افراد میں سے پانچ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ٹریکٹر ٹرالی کے پانی میں ڈوبنے کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔ویڈیو میں ٹریکٹر بہتے ہوئے تیز سیلابی ریلے میں پھنسا ہوا ہے اور اس کے ٹرالی میں لوگ سوار تھے۔ رات ہونے کے باعث ان کے پاس جو موبائل فونز تھے انھوں نے ان کے لائٹ بھی جلایا ہوا تھا اور قریب میں کچھ فاصلے پر ان کو بچانے کے لیے لوگ موجود ہیں لیکن وہ ویڈیو میں نظر نہیں آرہے ہیں۔ان کو بچانے کی کوشش کرنے والے لوگ ان سے باتیں کرنے کے علاوہ ان کو ہدایات بھی دے رہے ہیں لیکن اس دوران پانی کے تیز بہا کے باعث ٹرالی الٹ جاتی ہے اور اس کے بعد اس میں سوار لوگ نظر نہیں آتے ہیں۔ٹرالی کے الٹنے کے ساتھ ہی ان کو بچانے والے لوگوں کی چیخیں نکل جاتی ہیں اور ان میں سے ایک شخص روتا ہوا بولتا ہے کہ ٹریکٹر پر 15 افراد سوار تھے جو کہ سب بہہ گئے۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے بچنے کے لیے دعاں کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ قلعہ عبداللہ میں بے تحاشا بارش ہوئی جس کے باعث پہلے سے بھرے تین ڈیم ٹوٹ گئے۔ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نصیر احمد ناصر بھی قلعہ عبداللہ پہنچ گئے جہاں انھوں نے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کا جائزہ لیا ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کی اطلاع ملتے ہیں پی ڈی ایم اے کے تمام وسائل کو استعمال کیا گیا جن میں ہیوی مشنری بھی شامل تھی۔انھوں نے بتایا کہ اب تک دو افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ڈائریکٹر فیصل نسیم پانیزئی نے بتایا سیلابی پانی کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں اور انتظامیہ کے اہلکار لوگوں کو ریسکیو کرنے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ رات گئے تک ان میں سے متعدد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا تھا۔پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر ریلیف عطااللہ مینگل نے بتایا کہ میزئی اڈے کے قریب دو سو سے زائد افراد سیلابی ریلوں میں پھنس گئے تھے۔ان کا کہنا ان میں 25 بچوں سمیت 70 کے قریب افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔انھوں نے بتایا کہ پھنسے ہوئے باقی افراد ایک پہاڑی پر ہیں جن کو ریسکیو کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں