قلعہ عبداللہ میں سیلاب کی تباہی، 10 افراد جاں بحق، 6 زخمی، مکانات اور فصلیں تباہ

قلعہ عبداللہ(انتخاب نیوز) ڈیموں کی ناقص تعمیر کا صلہ،قلعہ عبداللہ میں گذشتہ رات ڈیمز ٹوٹنے سے آنے والا سیلابی ریلہ ہر طرف تباہی کی داستان چھوڑ کر گیا2بچوں سمیت 10افرادجاں بحق جبکہ6زخمی ہو گئے ہیں، درجنوں مکانات، دکانیں مال مویشی،باغات ٹیوب ویل کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہے لوگ آج دن بھر اپنے گھروں کے ملبے پر بیٹھے افسوس کررہے تھے پی ڈیم ایم اے مسلسل بڑے پیمانے پر نقصانات کے باوجود غائب رہی ضلعی انتظامیہ نے محدود پیمانے پر خیمے کمبل اور دیگر اشیا پہنچا دیئے وزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف نے بھی سیلاب سے نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ممکن ہے کہ وہ جلد علاقے کا دورہ کریں، متاثرین نے ڈیموں کے ٹھیکیداروں کیخلاف کاروائی اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے، تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات ماچکہ میں بنائے گئے ناقص ڈیموں کے ٹوٹنے اور اس کے نتیجے میں سیلابی ریلہ آنے سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں سیلابی ریلہ تباہی کی داستان چھوڑکر گیا، سیابی ریلوں سے مجموعی طور پر 2 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے ہیں سب سے زیادہ نقصانات ماچکہ ڈیم کے قریب ہوئے جہاں درجنوں مکانات کلی حاجی عبدالحکیم کاکوزئی، کلی حاجی رمضان کاکوزئی، کلی حاجی عبدالرزاق کاکوزئی سمیت دیگر کو ملیامیٹ کردیا اس کے علاوہ باغات،کھڑی فصلیں،بجلی سڑکیں، ٹیوب ویل بھی تباہ ہوئے ہیں سینکڑوں مال مویشی بھی سیلابی ریلوں کی نظر ہوئے ہیں اس سیلابی صورتحال اور اس سے ہونے والے نقصانات کے باوجود بھی صوبائی قدرتی آفات کا ادارہ پی ڈی ایم اے غائب رہی تاہم ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منیر احمد کاکڑ کی نگرانی میں محدود پیمانے پر خیمے کمبل اور دیگر اشیا متاثرین کو پہنچادیا گیا متاثرین آج دن بھر اپنے گھروں کے ملبے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے انہوں نے صوبائی حکومت سے ڈیموں کی ناقص تعمیر کی تحقیقات کرنے اور انہیں نقصانات کا ازالہ دینے کا مطالبہ کیا، یاد رہے کہ دونوں ڈیم 27 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گئے تھے جن کے حفاظتی پشتے تک نہیں بنائے گئے اور نہ ہی سپیل ویز دیئے گئے تھے ٹھیکدار ایریگیشن آفیسروں کی ملی بھگت سے کام ادھورا چھوڑ چلاگیا گزشتہ ہفتے بھی متعلقہ حکام نے ان ڈیموں کا دورہ کیا تھا مگر انہیں کلیئر قرار دیکر چلے گئے، سیلابی ریلوں سے قلعہ عبداللہ کے علاقے حبیب زئی میں ریلوے ٹریک کو بھی نقصان پہنچا ہے دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے بھی سیلاب سے نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر ایمرجنسی بنیادوں پر ہرممکن وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اس کے علاوہ وزیراعظم شہبازشریف کا متاثرہ علاقے کے دورے کا بھی امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں