سرکاری اساتذہ کی تادم مرگ بھوک ہڑتال کے 16 روز، متعدد کی حالت غیر، ہسپتال داخل

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (آئینی) بلوچستان اساتذہ قائدین کا مطالبات پر عملدرآمد کیلئے تادم مرگ بھوک ہڑتال 16ویں روز بھی جاری رہا اساتذہ کی حالت غیر شدید بخار، بے ہوشی، سردرد، تھکن، غصہ اور چڑچڑاپن، عنایت اللہ کاکڑ کو سانس لینے میں شدید دشواری کے سبب سول ہسپتال منتقل کردیا گیا، بیشتر ہڑتالی اساتذہ کی حالت ابتر اور تشویشناک،حکومتی بے رحمی اور بے حسی بدستور تسلسل کے ساتھ جاری بھوک ہڑتالی کیمپ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکومت دانستہ طور پر سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت پسماندہ صوبہ بلوچستان کو تعلیمی پسماندگی کی طرف دھکیل رہے ہیں جو دانشمندای نہیں صوبائی حکومت اور چند ایک بیورکریٹس کی غیر ذمہ داری اور غیر سنجیدگی سے صوبہ بھر میں اساتذہ سراپا احتجاج ہیں اساتذہ کے مطالبات جائز اور تسلیم شدہ ہیں جن کے سرکاری سطح پر منٹس بھی جاری ہوچکے ہیں ملک کے تمام صوبوں بشمول وفاق اور آزاد کشمیر کے اساتذہ کو اپ گریڈ کیا جاچکا ہے واحد لاوارث اور بد قسمت صوبہ بلوچستان کے اساتذہ کو محروم رکھ کر ظلم اور ناانصافی کی مثال قائم کی جارہی ہے صوبائی حکومت اساتذہ وتعلیم دشن بیوروکریٹس کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اساتذۃ مزید آزمائش میں نہ ڈالیں فوری طور پر اساتذہ مطالبات کے نوٹیفکیشن جاری کئے جائیں جب تک مطالبات پر عملدرآمد نہیں ہوگا جی ٹی اے آئینی بلوچستان کے قائدین کی تادم مر گ بھوک ہڑتال جاری رہے گی خدانخواستہ کسی بھی نقصان کو صورت میں تمام تر حالات کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی تعلیم واساتذہ دشمن صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں