بلوچستان کو پرامن رکھنے کیلئے ایف سی کو یہاں سے ہٹانا لازمی ہے، حق دو تحریک
پنجگور (نمائندہ انتخاب) پنجگور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچ بھوک وافلاس کا شکار ہے، بارڈر کو بند کرکے پنجگور کے عوام کو بے روزگار کیا گیا ہے مکران کے مسائل لاپتہ افراد اور بارڈر کی بندش کو لیکر گوادر میں ایک اور دھرنا کی طرف جارہے ہیں، عوام اپنے مقامی فورسز لیویز اور پولیس کو عزت دیں علاقے کے مسائل کا حل علاقائی نمائندوں کا کام ہے، عوام نے جس مقصد کیلئے انہیں ووٹ دے کر بھیجا ہے وہ کم ازکم اس مقصد کو تو پورا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بارڈر بچاؤ تحریک کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احتجاجی دھرنا سے حق دو تحریک کے ڈپٹی آرگنائزر ملافرہاد، سعود احمد، عادل ارباب شہسوار، عالم صمد صادق اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچ اپنی سرزمین پر بھی اجنبی ہیں، کرتار پور بارڈر جو دشمن ملک سے لگتا ہے وہاں پر بغیر کسی روک ٹوک کے لوگوں کو کاروبار اور ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت ہے، ایک بلوچ ہیں جو سرزمین کے اصل والی وارث بھی ہیں انہیں ہمسایہ برادر اسلامی ملک ایران جانے اور وہاں سے ضروریات زندگی لانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ حکمرانوں سے فیکٹری اور کارخانہ جات نہیں مانگ رہے بلکہ وہ ایک برادر دوست اسلامی ملک سے محنت مزدوری کی بھیک مانگ رہے ہیں، پھر بھی انہیں اجازت نہیں دی جارہی ہے اور یہ دوہرا معیار کب تک چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیرک سے عوام کو روزگار کی اجازت دینے کے ساتھ گھر، چیدگی، گزبستان اور تمپ میں بھی انٹری پوائنٹس کھولے جائیں تاکہ بے روزگاری کا جو عفریت حکمرانوں کی ناعاقبت اندیش کی پالیسیوں کی وجہ سے پھیل چکا ہے نے پورے معاشرے کو بھوک، پیاس اور مایوسیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ یہ بلوچ لیڈر شپ کے لیے کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام بارڈر پر روزگار نہ کریں تو کہاں سے اپنے بچوں کو کھلائیں حکومت اگر یہ چاہتی ہے، لوگ محنت مزدوری نہ کریں تو ان کیلئے متبادل روزگار کا بندوبست کرے۔ انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک پنجگور کے عوام کے ساتھ ہے، بارڈر کی بندش کیخلاف جو احتجاج ہورہا ہے اسکی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے الٹی میٹم دے دیا کہ اگر حق دو تحریک کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کرانے میں مزید تاخیر جاری رہی اور بارڈر کو نہیں کھولا گیا تو حق دو تحریک گوادر میں ایک اور دھرنا دے گا اور یہ دھرنا اس وقت نہیں اٹھے گا، جب تک ہمارے تمام مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے ایف سی کا انخلا چاہتے ہیں، بلوچستان کو پرامن رکھنے کیلئے ایف سی کو یہاں سے ہٹانا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیک پوسٹوں پر ہمارے لوگوں نے کافی تکلیفیں جھیلیں، کوسٹ گارڈ اور ایف سی ڈیزل، گھی کو تو باآسانی پکڑ سکتی ہے مگر منشیات پکڑنے میں انکا کوئی کام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر کے حوالے سے آرمی چیف کے احکامات پر تو عمل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ابھی نیند میں ہیں، جب اسے کوئی جگائے گا تب ان کو پتہ چلے گا کہ بلوچستان کے عوام ہفتوں مہینوں اپنے حق کیلئے سڑکوں پر فریاد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے اجنبیوں والا سلوک اب ترک کیا جائے عوام کو باعزت طریقے انکا حق اور روزگار کرنے دیا جائے، بلوچستان والے مزدوری پر جانے کے لیے بھی اجازت طلب کرنے پر مجبور ہیں۔


