جعفر آباد، سیلابی پانی کی عدم نکاسی کیخلاف سندھ پنجاب شاہراہ پر دھرنا
جعفر آباد (انتخاب نیوز) ڈیرہ اللہ یار میں سیلاب متاثرین نے سیلابی پانی نکاس نہ کرنے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے بائی پاس پر دھرنا دے دیا، جسکے باعث بلوچستان سے سندھ اور پنجاب کی ٹریفک بند ہوگئی۔ گوٹھ سردار خان لاشاری کے سیکڑوں مکینوں نے سیلابی پانی نکاس نہ کرنے کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے بائی پاس پر دھرنا دیا اور ٹائرنذر آتش کیے جسکے باعث بلوچستان سے سندھ اور پنجاب کی ٹریفک بند ہوگئی اور چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی کا دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے ہمارے گھر زیرآب آنے لا خدشہ ہے تاہم انتظامیہ سیلابی پانی کو نکاس نہیں کررہی، علاقہ مکینوں کے احتجاج کا ڈپٹی کمشنر جعفرآباد رزاق خان خجک نے نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر گوٹھ کے قریب نہر کو کٹ لگا دیا جسکے بعد سیلابی پانی جاگیر کی طرف نکاس ہونا شروع ہوگیا ہے۔ علاوہ ازیں ڈیرہ مراد جمالی میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن زیرآب آنے سے تین اضلاع کی بجلی گزشتہ 48گھنٹوں سے معطل ہے، بجلی کی عدم فراہمی سے معمولات زندگی متاثر اور شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ بلوچستان کے بالائی علاقوں لہڑی ندی اور کوہلو سے آنے والے سیلابے ریلے کے باعث ڈیرہ مراد جمالی میں 220کے وی گرڈ اسٹیشن زیرآب آچکا ہے جسکے باعث ڈیرہ مراد جمالی، اوستا محمد، روجھان جمالی اور جھل مگسی گرڈ اسٹیشن کو گزشتہ 48گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے بجلی کی بندش سے معمولات زندگی اور کاروباری نظام بری طرح متاثر ہوگیا اور ڈیرہ اللہ یار سمیت اوستا محمد اور ڈیرہ مراد جمالی شہر میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے شہری علاقے گزشتہ دو روز سے بجلی سے محروم ہیں کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ 220کے وی گرڈ اسٹیشن میں یکے بعد دیگر دو بڑے سیلابی ریلے داخل ہوئے ہیں جسکے باعث گرڈ اسٹیشن مکمل طور پر زیرآب آچکا ہے گرڈ اسٹیشن سے سیلابی پانی نکاس کا کام شروع کر دیا گیا ہے سیلابی پانی نکاس ہونے کے بعد گرڈ اسٹیشن کی مرمت کا کام شروع کیا جائیگا کیسکو حکام کا مزید کہنا تھا کہ سیلابی پانی نکاس میں شدید مشکلات کا سامنا ہے آئندہ دو روز تک متاثر ہونے والے گرڈ اسٹیشنز کو بجلی کی فراہمی بحال نہ ہوسکے گی۔


