سردار عطاء اللہ مینگل اور دیگر اکابرین شعور وآگہی کے مینارتھے، ڈاکٹر مالک
تربت (انتخاب نیوز) بی این پی کیچ کے زیر اہتمام قومی رہشون سردار عطاء اللہ مینگل کی پہلی برسی پر سرکٹ ہاؤس تربت میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، تعزیتی ریفرنس سے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سردار عطاء اللہ مینگل ودیگر بلوچ اکابرین سے 1976ء سے حیدرآباد سازش کیس کے بعد سے میرا باقاعدہ رابطے استوار ہوئے، تاہم بعدازاں پونم، بی این ایم، چارفریقی اتحاد کے پلیٹ فارم پربھی مشترکہ جدوجہد کرتے رہے ہیں بلوچ اکابرین سردار عطاء اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، نواب بگٹی،نواب مری شعور وآگہی کے مینارتھے، بلوچ قومی جدوجہد کے بانی اکابرین کا سیاسی کردارناقابل فراموش ہے، انہوں نے کہاکہ بلوچ قوم پرست پارٹیوں کے درمیان اتحاد ویگانگت کیلئے نیشنل پارٹی کوجہاں بھی بلایا جائے ہم کھلے دل کے ساتھ تیارہیں، کیونکہ قوم پرست جماعتوں کابنیادی مقصد نیشنل ازم اوربلوچ قوم ہے اس مقصد کے حصول کیلئے نیشنل پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہاکہ سیاست ایک نظریہ اور سوچ کی بنیادپر کی جاتی ہے اور غلام قوموں کانظریہ اس وقت تک باقی رہتاہے جب تک کہ وہ اپنی قومی حقوق حاصل نہ کرپائیں، انہوں نے کہاکہ بلوچ کوجذباتی نعروں کی نہیں بلکہ تعلیم اور کاروبارکی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے بلوچ کو اعلیٰ تعلیم اور اچھی کاروبار بچاسکتی ہے، انہوں نے کہاکہ آل پارٹیز اور سیاسی جماعتیں تعلیم اور ٹریڈ کے حوالے سے کسی قسم کی سمجھوتہ نہ کریں، بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹرعبدالغفور بلوچ نے کہاکہ بلوچستان کی اصل تصویر سردار عطاء اللہ مینگل، نواب بگٹی، نواب مری اورمیر غوث بخش بزنجو ہیں۔ ان اکابرین نے اپنی زندگی بلوچ وبلوچستان کیلئے وقف کررکھی تھی، ان اکابرین کی شعوری وفکری جدوجہد کی روشنی میں ہمیں جدوجہد کوتیزکرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچ اکابرین کا شروع دن سے بلوچستان کے ریاستی الحاق کے معاہدہ پرعملدرآمد کامطالبہ کرتے آرہے ہیں مگر اس کے بدلے ریاست کی جانب سے مسلسل طاقت کا استعمال کیاجاتارہاہے، بلوچ وبلوچستان کے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے آپریشن کئے جاتے رہے ہیں اکابرین کو صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، قومیتوں کے حقوق تسلیم کرنے کے بجائے اپنی مرضی کے نمائندے اور حکمران مسلط کئے جاتے رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ملک میں غیرجانبدار اور شفاف الیکشن کو لوگ بھول جائیں انہوں نے کہاکہ سیلاب نے بلوچستان کوتباہ کردیاہے مگر کسی کو احساس تک نہیں، کیچ کور حفاظتی بند کی ناقص وغیرمعیاری تعمیر تربت شہر کی تباہی کاباعث بنے گی، معروف سیاسی رہنما سابق سینیٹر میرمحمد اسلم بلیدی نے کہاکہ سردار عطاء اللہ مینگل بلوچ قوم کے لیجنڈری کردار تھے ان کی سیاسی جہد، خدمات اورقربانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں وہ اپنی فکری کمٹمنٹ کے باعث ایک مکمل سیاسی ادارہ تھے ان پر پی ایچ ڈی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہاہے، ملٹری آپریشن، لوگوں کولاپتہ کرنا اور قدرتی آفات کے باعث بلوچستان بڑے سنگین حالات سے دوچار ہے، حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کم سے کم نکات پر بلوچ قوم پرست قیادت کو اپنی ضد اور انا کو پس پشت ڈال کر اتحاد واتفاق کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ 75سالوں سے جمہور کا حق تسلیم نہیں کیاجارہاہے بزور طاقت عوام کا حق غصب کیاجاتا رہا ہے، پاکستان کثیرالقومی ملک ہے، تمام قوموں کی سوچ اورمزاج کو سمجھ کر فیصلے کرنے ہوں گے قوموں کے وجود کوتسلیم کرنا ہوگا، بلوچستان کامعاملہ سیاسی، آئینی اورمعاشی ہے جسے گفت وشنید سے حل کیاجاسکتا ہے مگر یہاں پر فیصلے عوام نہیں چند ریاستی ملازمین کرتے ہیں جو نہ 1940ء کی اپنی پیش کردہ قرار داد پر عمل درآمد کیلئے تیارہیں اورنہ ہی اپنے بنائے گئے 1973ء کے آئین پر، بلوچستان کے ساحل وسائل کوہڑپ کرنے، بلوچ قومی وجود کو ختم کرنے اورڈیموگرافک تبدیلی لاکر بلوچ کی حیثیت ختم کرانے کی کوششوں کے بعد بھی پوچھا جاتاہے کہ بلوچی بھائی کیوں ناراض ہیں؟ بی این پی عوامی کے مرکزی سنیئر نائب صدر میر اصغر رند نے کہاکہ سردار عطاء اللہ مینگل، نواب بگٹی، میر غوث بخش بزنجو، نواب مری بلوچستان کی پہچان ہیں، سردار عطاء اللہ مینگل کانیپ اوربی این پی کے قیام میں اہم رول رہاہے، سردار عطاء اللہ مینگل صرف بی این پی کے نہیں بلکہ بلوچستان اوربلوچستان کے لیڈر تھے، انہوں نے کہاکہ 2018ء کے الیکشن میں جس طرح کی ٹھپہ ماری اور بندر بانٹ کی گئی۔


