پنجگور کے تین رہائشی پولیس گردی کا شکار ہوکر تھانے پہنچ گئے، ایس پی کی مداخلت پر رہا
پنجگور (انتخاب نیوز) پنجگور کے رہائشی تین نوجوان جو انجینئر نگ یونیورسٹی خضدار کے طالب ہیں پولیس گردی کا شکار ہوکر تھانہ پہنچ گئے کئی گھنٹہ لاک اپ میں گزارنے کے بعد ایس پی کی مداخلت پر رہا ہوگئے ۔پولیس تشدد کے شکار ایک نوجوان خیرجان ولد محمد علیم سکنہ وشبود ضلع پنجگور کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان یونیورسٹی انجینئر نگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار میں کمپیوٹر انجینئرنگ کا کورس فارغ کر چکا ہوں اپنے ذاتی گاڑی میں دوست حفالرحمان جو سیول انجینئر اور شاہزیب مکینکل انجینئر کے اسٹوڈنٹس کے ساتھ خضدار جارہا تھا جو ہمارے کلاس اور پیپر شروع ہو رہے تھے تو گرمکان فٹبال چوک کے پاس ڈی ایس پی قادر زہری اور اے ٹی ایف کے اہلکاروں نے انہیں روکا اور گاڑی کے ڈارک شیشے اتارنے لگے اور بغیر سوال کیے ہم پر لاتوں مکوں اور بندوق کی بٹ سے مارنے لگ گئے اور بعد میں انہیں بے ہوشی کی حالت میں سٹی تھانہ لے جایا گیا۔جب میں ہوش میں آیا توسٹی تھانے میں منشی صابر نے تھپڑ مار کر ہماری تلاشی کی۔لیکن گاڑی میں کتاب لیپ ٹاپ اور جیب میں سے قلم کے علاو¿ہ انہیں اور کچھ نہیں ملالاک اپ 4 گھنٹہ رکھنے کے بعد ڈی پی او کی مداخلت پررہا کردیا گیا ۔


