وبائی امراض میں بتدریج اضافہ، مزید بارشوں سے تباہی پھیل سکتی ہے،اقوام متحدہ
نیویارک :اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں آنے والے مہینوں میں مزید بارشوں سے موجودہ ابتر سیلابی صورتحال بد ترین ہونے کا خدشہ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے کہا کہ مزید بارشیں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کر دیں گی۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے کہ سیلاب سے بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکت خیز سیلاب سے تباہ حال پاکستان میں انسانی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی مون سون کی غیر معمولی بد ترین بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب سے پاکستان میں سوا 3 کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ایک ہزار 460 سے زیادہ مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 432 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، سب سے زیادہ مراکز صحت سندھ میں تباہ ہوئے۔ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے 4ہزار500 سے زیادہ میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں جب کہ ڈائریا، ملیریا، ڈینگی، ہیپاٹائٹس اور چکن گونیا کے دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ ریپڈ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔پاکستان نے شعبہ صحت میں مزید عالمی امداد کے لیے یونیسیف، ڈبلیو ایچ او، یو این ڈی پی سے رابطے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان نے شعبہ صحت میں مزید عالمی امداد طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع وزارت صحت نے بتایا کہ امداد کے لیے عالمی اداروں سے رابطے تیز کیے جائیں گے، پاکستان یونیسیف، ڈبلیو ایچ او، یو این ڈی پی سے رابطے کرے گا۔ذرائع نے بتایا کہ دوران حمل استعمال ہونے والی دواں کی فراہمی کی اپیل کی جائے گی، پاکستان دوران زچگی استعمال ہونے والے طبی آلات فراہمی کی اپیل کرے گا۔وزارت صحت نے کہا کہ پاکستان موسمی امراض کی دواں، ویکسین فراہمی، ٹائیفائیڈ، ملیریا، ڈائریا، ہیضہ کی دواں کی اپیل کرے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان عالمی اداروں سے مچھر دانیاں، پانی صاف کرنے والی گولیاں، طبی آلات، غذائی ساشے فراہم کرنے کی درخواست کرے گا۔ذرائع نے بتایا کہ عالمی اداروں سے اینٹی بائیوٹک، ملٹی وٹامن ادویات فراہمی کی اپیل ہو گی تاہم عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کو ادویات، طبی آلات فراہمی جاری ہے۔


