ھم ایک طبقے کے غلام ہیں،آئین میں رہتے ہوئے بھی اپنے حقوق کی بات نہیں کرسکتے،سردار اختر مینگل

کوئٹہ /کراچی(انتخاب نیوز)قومی سیاسی قیادت کا کہنا ہے کہ دستور آئین اورحقوق کے لیے جنگ لڑنے میں بزرگ سیاستدان سردار عطا اللہ مینگل کا کوئی ثانی نہیں ہے،ملک کو عطاءاللہ مینگل جیسے بااصول سیاستدانوں کی ضرورت ہے،آئینی طور پرجنہیں سیاست کا حق نہیں ہے وہ ملک میں سیاست کررہے ہیں،آج بھی آئینی دائرہ کارمیں رہ کر اپنے حقوق کی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے،سیاسی مفاد پرستی کی وجہ سے جمہوریت کمزورہورہی ہے،طے کرنا ہو گا کہ اب ملک میں بالا دستی آئین کو حاصل ہے یا صرف چند طبقوں کو،آئین کی بالادستی کا معاملہ طے ہونے تک مسائل حل نہیں ہونگے،چارٹرآف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی سے پہلے سیاست میں مداخلت کے روکنے کے چارٹرپرمتحد ہونا ہوگا،سی پیک کا حامی امریکہ کا دشمن اور مخالف امریکہ کا دوست گرداناجارہا ہے،بلوچستان کی ترقی کے دعوے ہوا میں تحلیل ہوگئے،بلوچستان کے وسائل پرمقامی حق تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہاربلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل،پی ڈی ایم کے سربراہ اورجے یوآئی کے قائد مولانا فضل الرحمن،مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل وفاقی وزیر احسن اقبال،پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی،سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ،پیپلزپارٹی سندھ کے صدر سینیٹر نثارکھوڑو،سابق صدر سپریم کورٹ بار یاسین آزاد،علی احمد کرد،سینئرصحافی مظہرعباس دیگرنے مقامی ہوٹل میں سردارعطاءاللہ مینگل کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مختلف سیاسی جماعتوں،قوم پرست رہنماں، وکلاءسول سوسائٹی کے رہنماں نے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی اوربزرگ سیاستدان کی خدمات کوخراج تحسین پیش کیا۔ صدارتی خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل نے کہاکہ چارٹرآف ڈیموکریسی اور چارٹر آف اکانومی اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک سیاست میں مداخلت روکنے کے چارٹرپراتفاق نہ کرلیاجائے،ھم ایک طبقے کے غلام ہیں اورآئین میں رہتے ہوئے بھی اپنے حقوق کی بات نہیں کرسکتے،ملک چلانے کے لئے تمام ادروں کو اپنی حد میں رہ کر کام کرنا ہوگا،ہم مظلوم ہیں اور محروم بھی ہیں جب تک مجھے یہ باور نہیں کرایا جاتا کہ میں بااختیار ہوں میری محرومی ختم نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان میں لوگ لڑ رہے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کیوں لڑ رہے ہیں،تھنک ٹینکر کبھی یہ سوچتے ہیں کہ یہ کیوں لڑ رہے ہیں ،کیا سپریم کورٹ نے کبھی بلوچستان کے ایشوز پر سوموٹو نوٹس لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں انگریزوں کے بچھائے ہوئے ریلوے نظام کو ہم توسیع نہیں دے سکے ہماری ترقی کا راز یہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں