بلوچستان کے زمینداروں کا دسمبر 2023ءتک بجلی کے بلوں کی ادائےگی نہ کرنیکافیصلہ
کوئٹہ (انتخاب نیوز) زمیندار ایکشن کمیٹی نے دسمبر 2023ءتک بجلی کے بلوں کی ادائےگی نہ کرنے کافیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان90فصد آفت زدہ زراعت کاشعبہ تباہی کے دہانے پر ہے ،رہی سہی کسر قومی شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے پھل وسبزی کے سڑنے کی وجہ سے پوری ہوگئی ،بجلی غائب جبکہ زرعی فیڈرز کو فیز ٹو کیاگیاہے لیکن اس کے باوجود بجلی بلوں کے نوٹسز مل رہے ہیں ،26ستمبر کو تمام ڈپٹی کمشنرز کو چارٹرآف ڈیمانڈ کی یاداشت اور 29ستمبر کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیاجائے گا۔اس بات کا فیصلہ گزشتہ روززمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا اجلاس میں جنرل سیکرٹری حاجی عبد الرحمن بازئی، حاجی عبد اللہ جان میرزئی، عبدالجبار کاکڑ، سید عبدالقہار آغا، خالق داد، کاظم خان اچکزئی، حاجی عبد المجید مشوانی، صاحبزادہ سیف اللہ، ملک محمد حمیدزئی، عبدالحد پنجپائی، نجیب اللہ، ناصر خان، سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، مستونگ، نوشکی و دیگر کے زمینداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں زمینداروں نے ایکشن کمیٹی کو زمینداروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر زرعی زمین تباہ ہو گئی ہے فصلات باغات بری طرح متاثر ہوئے ہیں سیلاب سے سینکڑوں زرعی فیڈرز پانی میں بہہ گئے ہیں۔ تین ماہ ہونے کو ہیں سینکڑوں زرعی فیڈرز پر بجلی غائب ہے جبکہ فیڈرز کو ٹو فیز کیا گیا ہے کیسکو بلوں کی ادائیگی کیلئے بجلی نہ ہونے کے باوجود نوٹسز جاری کررہے ہیں بلوچستان 90 فیصد سے زائد آفت زدہ قرار دیا گیا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ زمیندار ریلی کی صورت میں زراعت کے حوالے سے نقصانات کیلئے چارٹر آف ڈیمانڈ ایک یاداشت کی صورت میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو یاداشت کی صورت میں پیش کریگی ،انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے زمینداروں کے300ارب روپے سے زیادہ کے نقصانات ہوئے ہیں جس کی وجہ سے زمینداروں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 31 دسمبر 2023 تک بجلی کے بل ادا نہیں کریں گے سیلاب یا بارشوں سے جو فصلات بچ گئی ہے قومی شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے وہ ملکی منڈی تک نہیں پہنچ پار ہی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں پھل اورسبزی جات کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے ،اس لئے حکومت پاکستان ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان سے پیاز سیب، ٹماٹر،تمباکو اور کھیرا وغیرہ کی درآمدات پر فی کلو کے حساب سے 75 روپے ٹیکس عائد کرے تاکہ ایک طرف قومی خزانے کو فائدہ ہوں اوردوسری جانب زمینداروں کو تحفظ ملے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں حالیہ بارشوں و سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی سروے کیلئے کمیٹی میں زمیندار ایکشن کمیٹی کی نمائندگی شامل کی جائیں بولان، فورٹ منرو اور دانہ سر کے مقام پر قومی شاہراہوں کو بڑے ٹرانسپورٹ کیلئے کھول دیا جائے تاکہ پھل و سبزیاں ملکی منڈی تک پہنچ جائیں اور مہنگائی میں کمی ہوں ،انہوں نے کہاکہ اگر مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان اسمبلی کے سامنے 29 ستمبر کو پرامن مظاہرہ کریگی 3 اکتوبر کو زمیندار ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں حالیہ مسائل زیر بحث آئیں گے۔


