بلوچستان ہائیکورٹ نے نیشنل فنانس کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کوکالعدم قراردے دیا، فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

کوئٹہ : بلوچستان ہائیکورٹ نے نیشنل فنانس کمیشن کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کی درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے، جمعہ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عبدالحمید بلوچ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے گزشتہ دنوں صدر مملکت کی جانب سے جاری کئے جانے والے نیشنل فنانس کمیشن کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی، سماعت میں درخواست گزاروں کامران مرتضی ایڈووکیٹ،میر عطااللہ لانگو و دیگروکلا نے موقف اختیار کیا کہ این ایف سی آئینی فورم ہے جس میں مشیر خزانہ کی رکنیت غیر آئینی ہے،درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ جاوید جبار کو این ایف سی میں بلوچستان کی جانب سے رکن مقرر کیا گیا ہے جاوید جبار ایک لکھاری ہیں ٹیکنیکل عہدہ سونپنا غیرقانونی ہے ان کی تقرری آئین و قانون کے منافی ہے، عدالت عالیہ نیشنل فنانس کمیشن کے قیام کو کالعدم قرار دے، بلوچستان ہائیکورٹ نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے اور آئینی درخواست پر سماعت 21 مئی کو مقرر کردی


