حاجی محمد اکرم ساجدی ایک عہد ساز شخصیت
تحریر : لطیف بلوچ مشکے
حاجی محمد اکرم ساجدی کے متعلق لکھتے ہوئے میرے پاس وہ الفاظ نہیں جس سے میں ان کی خوبیوں اور انسان دوستی کی داستان بیان کروں اور نہ ہی مجھ میں ویسی علم اور ذہانت ہے مگر میرا دل اور میری سوچ مجھے بار بار حاجی اکرم شہید کے متعلق کچھ لکھنے پر مجبور کررہی ہے ممکن ہے کہ میں حاجی صاحب کی زندگی اور کارناموں کو اس طرح اپنی تحریر میں بیان نہ کرسکوں جن کے وہ حقدار ہیں مگر اپنی بساط اور صلاحیت کے مطابق میں ان کی زندگی اور کارناموں کو زیر قلم کررہا ہوں۔
حاجی محمد اکرم ساجدی یکم جنوری 1962ءکو مشکے گجر کی مشہور کاروباری شخصیت حاجی الٰہی بخش ساجدی کے گھر پیدا ہوئے، حاجی اکرم نے پرائمری سے نویں جماعت تک تعلیم ہائی اسکول مشکے گجر سے حاصل کی۔ اس دوران وہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر 1980ءمیں سعودی عرب چلے گئے جہاں انہوں نے مدینہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے شیخ الحدیث کی ڈگری حاصل کی اور 1989ءمیں سعودی عرب سے تعلیم مکمل کر کے واپس اپنے وطن آگئے۔
حاجی اکرم ساجدی کو اس اعلیٰ تعلیم کے بعد قاضی سمیت دیگر اہم سرکاری عہدے مل سکتے تھے مگر انہوں نے سرکاری نوکری کے بجائے اپنے والد حاجی الٰہی بخش ساجدی کا ہاتھ بٹا کر کنٹریکٹر (ٹھیکیداری) کا کام شروع کیا اور کاروبارِ کے علاوہ سیاسی و سماجی معاملات اور اپنے قبیلے اور دیگر لوگوں کی مشکلات و مسائل کو حل کرنے میں پیش پیش رہے۔ ان معاملات میں وہ اپنے چچا میر دلمراد ساجدی سے مشورہ اور رہنمائی حاصل کرتے تھے جو کہ ضلع آواران کی انتہائی معتبر سیاسی اور قبائلی شخصیت تھے اور اپنے خلوص، ایمانداری اور انسان دوستی کے باعث لوگوں کے دلوں میں آج تک زندہ ہیں۔
حاجی محمد اکرم ساجدی 2000ءمیں عملی سیاست میں داخل ہوئے اور جنرل پرویز مشرف کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل گجر مشکے کے ناظم کے لیے الیکشن لڑا مگر چند ووٹوں سے ہار گئے اور بعد میں تحصیل ناظم کے لیے میدان میں اترے۔ یہاں ان کی مخالفت میں بڑے بڑے لوگ میدان میں نکلے اور ہر قسم کے ناجائز حربے استعمال کرکے حاجی اکرم کو ہرایا مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری اور 2005ءمیں دوبارہ تحصیل ناظم کے الیکشن میں میدان میں اترے اور شاندار کامیابی حاصل کی۔ 2005ءسے 2009ءتک وہ تحصیل ناظم مشکے کے عہدے پر فائز رہے۔ اپنے لوگوں اور علاقے کی بہت بہتر انداز میں خدمت کی اور اجتماعی کاموں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مشکے کے بہت سے علاقوں کو تحصیل فنڈز سے پاور ہاﺅس مشکے گجر سے بجلی فراہم کی جو1975ءسے بجلی سے محروم تھے۔ ان علاقوں میں کلر، میوار، مندیل، کالار، لیاقت آباد اور کھندڑی شامل ہیں جو اس وقت حاجی اکرم ساجدی کی محنت، دلچسپی اور عوام دوستی کی وجہ سے بجلی کی سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ حاجی صاحب نے بے شمار ایسے کام کیے جن سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے بے شمار غریب اور مستحق لوگوں کی داد رسی کی اور بے سہارا لوگوں کا مفت علاج کروایا۔
حاجی محمد اکرم ساجدی ایک غریب پرور اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے جن کی محنت اور ذاتی کوششوں سے بہت سے لاپتہ لوگ بازیاب ہوکر آج اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں، حالانکہ حاجی شہید کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے اور بہت سے لوگوں نے شہید کو اس عمل سے دور رہنے کا کئی دفعہ مشورہ دیا تھا مگر انہیں غریب اور بے سہارا لوگوں خاص کر لاپتہ افراد کی بے بس و لاچار ماﺅں کی آنکھوں کے آنسو اور فریادیں مجبور کرتی تھیں کہ وہ ان کی داد رسی کے لئے کوششیں کریں جس کے باعث وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہروقت کوشاں رہتے تھے۔ حاجی محمد اکرم ساجدی ایک انتہائی ہنس مکھ، محفلیں جمانے والی شخصیت کے مالک تھے، ان کی محفل میں بیٹھنے والے اٹھنے کا نام نہ لیتے۔گھنٹوں تک محفل میں بیٹھے لوگ ان کی زندہ دل شخصیت کے سحر میں گرفتار رہتے۔
بلوچ قوم کی بدقسمتی رہی ہے کہ سماج دوست اور کارآمد لوگوں کو مختلف الزامات لگا کر چن چن کر ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا کردیا گیا اور اب لاچار اور بے سہارا لوگوں کی مدد و تعاون اور تکلیف میں سامنے آنے اور مدد کرنے کی بجائے لوگ ڈر اور خوف محسوس کا شکار ہو کر ایسے معاملات سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔
حاجی اکرم ساجدی کا یہ عمل اور عوام دوستی کے کارنامے ناگوار گزرے اور انہیں یکم نومبر2021ءکو بھوانی سے اپنے دو چچا زاد بھائیوں کے ہمراہ حب چوکی کی طرف آتے ہوئے شاکر ہوٹل کے قریب بم دھماکے میں شہید کردیاگیا۔ ان کی گاڑی میں سوار ان کے دو چچا زاد بھائی اس حملے میں زخمی ہوئے۔
حاجی محمد اکرم ساجدی کی شہادت سے ضلع آواران خاص کر تحصیل مشکے کے لوگ ایک شفیق، مہربان اور غریب پرور شخص سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے اور اب ان علاقوں کے نادار اور مسکین لوگوں کے لئے کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔ حاجی محمد اکرم ساجدی نے 2018ءکے عام انتخابات میں حصہ لیکر عام لوگوں کے لیے ایک راہ ہموار کی اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتوں کے لوگوں اور آزاد امیدواروں نے بھی الیکشن میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور پہلی بار آواران کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر دس کے قریب امیدوار میدان میں اترے۔ بہرحال حاجی محمد اکرم ساجدی کی شہادت سے ایک بہت بڑا نقصان خصوصاً غریب لوگوں کو پہنچا ہے اور ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے جس کا پر ہونا شاید کبھی ممکن نہ ہو۔


