منشیات نے تباہی مچا دی

تحریر : اخلاق احمد
ہنگول ایک گاﺅں نہیں بلکہ ایک علاقہ جس میں تقریباً 13 گاﺅں آباد ہیں۔ یہ علاقہ ضلع پنجگور کی حدود میں آتا ہے۔ ان لوگوں کے ذرائع معاش کھیتی باڑی سے وابستہ ہے اور خواتین دستکاری کرتی ہیں تاکہ ان کو دو وقت کی روٹیاں میسر ہوسکیں۔ بدبختی سے یہ علاقہ دو دہائیوں سے پورے طور پر منشیات کی زد میں ہے، جہاں بچہ بچہ اس لعنت کا عادی ہورہا ہے کیونکہ منشیات فروش اس علاقے کے روٹ کو استعمال کیا اور پھر کچھ اسمگلرز نے باشندوں کو منشیات فروخت کرنے کی پیشکش کی کہ وہ اس کارو بار میں بہت منافع کمائیں گے۔ ان بیچاروں کو لگا ایک اچھا کام ہے کریں گے اور خوب فائدہ اٹھائیں گے لیکن جن لوگوں کو نہیں پتا تھا کہ یہ لعنت ان کی آنے والی نسل کو تباہ و برباد کردیگی۔ آہستہ آہستہ یہ وباءآدمیوں میں پھیلنے لگی اور اسی طرح یہ پورے علاقے میں پھیل گئی۔ اب وہاں بوڑھے اور جوان مکمل طور پر اس کے عادی ہیں۔ اس وباءنے ان لوگوں کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے آپ کو اس تباہی سے بچاسکے۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ان کی اولاد بھی اس میں پھنس رہے ہیں۔ ابھی ان لوگوں کے اختیار میں کچھ نہیں ہے کہ وہ اس وبا کیخلاف کچھ کرسکے۔ دوسری طرف ہنگول کا آخری گاﺅں گورکائی کے نام سے جانا جاتا ہے، وہاں بھی منشیات نے تباہی مچا دی کیونکہ جب والدین نے اپنے گھروں میں منشیات استعمال کرنا شروع کی جس کے دھواں کی وجہ سے کچھ 5 اور 6 سال کے بچے اس کی عادی ہوچکے ہیں۔ وہاں خواتین آفت زدہ زندگی گزار رہی ہیں چونکہ آدمیوں کو اپنے نشے میں فرصت نہیں ملتی کہ وہ اپنی گھر والیوں اور بچوں کیلئے کچھ کرسکیں۔ گورکائی وہ گاﺅں ہے جہاں سے نہ ایک تعلیم یافتہ شخص ملتا تھا نہ ملتا ہے نہ ہی ملتا ہوگا کیونکہ نہ وہاں اسکول ہے نہ ہی ایسے کچھ اشخاش ہیں جو اس گاﺅں کے لیے کچھ کریں۔ ہنگول کی صرف ایک گاﺅں میں ایک پرائمری اسکول ہے جو کچھ سال سے بند رہا اور اب سر عیسیٰ کی بدولت سے وہ اسکول کھلا ہے، جہنوں نے اپنے گاﺅں کے خاطر اپنی پڑھائی ماسٹر تک محدود کی تاکہ یہ گاﺅں مزید اس لعنت کی نقصان نہ اٹھائے۔ گورکائی اس اسکول سے دس کلو میٹر کی دوری پر ہے، جہاں سے چھوٹے بچے نہیں آسکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ تعلیم کی عدم دستیابی کی وجہ سے پورے ہنگول کو اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا جس کو دوبارہ اچھا ہونے میں کئی دہائیاں لگتی ہیں جبکہ اس علاقے کو پہلے ہی طرح نظر انداز نہ کریں تو۔ اگر آج اس علاقہ یہ مشکل گھڑی میں ہے نا اہل سیاستدانوں کی وجہ سے۔ اب خدارا اس علاقے کو بربار ہونے سے بچالیں اور وہاں ایجوکیشن کو پرووموٹ کریں تاکہ ان لوگوں کی مشکل زندگیاں تھوڑا بہتر ہوسکیں تاکہ آنے والی نسلیں برائیوں اور بدعنوانی کی تباہی سے خوب واقف ہوجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں