مالی سال کی پہلی ششماہی، حکومت کو220 ارب روپے کے ریکارڈ شارٹ فال کا سامنا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کو رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اپنے ٹیکس ہدف کے حصول میں تقریباً 220 ارب روپے کے ریکارڈ شارٹ فال کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجوہات میں منفی معاشی پالیسیاں، تاجروں کو دی جانے والی چھوٹ اور قانونی طور پر قابل اعتراض ٹیکسیشن وغیرہ شامل ہیں۔جولائی تا دسمبر کے 3.65 ٹریلین روپے کے ہدف کے مقابلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جمعے تک محض 3.4 ٹریلین روپے اکٹھے کیے، جو ریکارڈ مارجن کے ساتھ ہدف سے کم رہے۔ تاہم اس ریکارڈ کمی کو دیکھتے ہوئے حکومت کے ٹیکس دفاتر ہفتہ کو چھٹی والے دن بھی کھلے رہیں گے، یوں حکومت کی ٹیکس وصولی میں مزید 20 سے 25 ارب روپے تک اضافہ ہونے کی توقع ہے۔اس میں ایک گورنمنٹ ہولڈنگ کمپنی کی جانب سے تقریباً 8.5 ارب روپے بشمول سپر ٹیکس کی ادائیگی بھی شامل ہے، جس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ فیصلہ دے چکی ہے۔ 965.2 ارب روپے کے ماہانہ ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر جمعہ تک 713 ارب روپے ہی جمع کرسکا تھا۔ٹیکس حکام کا خیال ہے کہ ہدف کے حصول میں رہ جانے والی کمی کو وہ رواں مالی سال کے دوسرے نصف میں پورا کرلیں گے لیکن یہ امر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو پاکستان کو اضافی ٹیکس اقدامات پر مجبور کرنے کے لیے اضافی مددگار مواد فراہم کرسکتا ہے۔ایف بی آر میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ہفتہ کی شام تک ماہانہ وصولی کو 740 ارب روپے تک بڑھانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن پھر بھی وصولی میں تقریباً 220 ارب روپے کی کمی کے باعث حکومت نئے دباؤ کا شکار ہوجائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں