ہدایت الرحمن آزادی کی تحریک نہیں چلا رہے تھے، جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں، جماعت اسلامی
مستونگ (نامہ نگار) جماعت اسلامی مستونگ کے زیر اہتمام ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالکریم اور یوتھ ونگ کے صدر میر عمر مینگل کے قیادت میں۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور دو تحریک کے دیگر رہنماﺅں کی گرفتاری اور بوگس مقدمات کے خلاف مستونگ شہر میں احتجاجی ریلی ریلی نکالی اور پریس کلب مستونگ کے سامنے مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھائے تھے جس پر حق دو تحریک کے حق میں اور صوبائی حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقع پر مظاہرین سے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالکریم ، یوتھ ونگ کے ضلعی صدر میر عمر مینگل، مولانا حمد اللہ، حافظ عبدالرشید و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور انکے دیگر ساتھیوں کی غیر قانونی گرفتاریوں اور گوادر میں پرامن احتجاج پر پولیس گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گرفتاریوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ بلوچستان پر مسلط آمریت نما کٹھ پ±تلی صوبائی حکومت کسی دوسرے کی بیساکھی پر چل رہی ہے انہوں نے کہا ہے بلوچستان کیلئے حق مانگنا گناہِ عظیم بن گیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور انکے ساتھی کسی آزادی کے تحریک نہیں چلا رہے تھے کہ ان پر انسداد تخریب کاری ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے ٹارچر سیلوں میں پابند سلاسل کیا جاتا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ تو گوادر کے عوام کے ساتھ مل کر گوادر کے غیور عوام کے لیے پانی صحت تعلیم غیر قانونی ٹرالنگ کے خلاف پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ انکے پر امن احتجاج پر ہزاروں اہلکاروں کی تعداد میں پولیس کا دھاوا بولنا انتہائی شرمناک عمل ہے، مقررین نے کہا کہ گوادر میں نہ روزگار نہ بجلی نہ پانی نہ معیاری ایجوکیشن ہے اور نہ دیگر بنیادی سہولیات عوام کو میسر ہے لیکن بدقسمتی سے قدوس بزنجو کے اس نا اہل اور کرپٹ حکومت حقوق مانگنے والوں کے پیروں میں بیڑی، ہاتھوں میں ہتھکڑی اور زبان پر تالہ لگا کر ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انھوں نے کہا ہم اس احتجاج کے توسط سے واضع پیغام میں کہنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور گوادر کے عوام کو انکے بنیادی حقوق کے جد و جہد سے دستبردار نہیں کراسکتے جماعت اسلامی کے مرکزی امیر مولانا سراج الحق صاحب اور بلوچستان کے عوام حق دو تحریک کے جد و جہد میں شانہ بشانہ ہے، کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ مقررین نے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حق دو تحریک کے تمام مطالبات کو فی الفور تسلیم کیا جائے اور مولانا ہدایت الرحمان بلوچ سمیت تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کر کے مقدمات ختم کیے جائیں۔


