بلوچستان اسمبلی اجلاس، قرآن پاک کی بے حرمتی، پشاور خودکش حملے،سانحہ لسبیلہ کیخلاف مذمتی قراردادیں منظور

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی اجلاس نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی اور پشاور میں مسجد میں خود کش حملے کے حوالے سے اصغر ترین، خلیل جارج کی جانب سے الگ الگ پیش کی جانے والی مذمتی قرار دادوں کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا،بلوچستان اسمبلی نے سرکاری گاڑیوں کی دیگر صوبوں میں چلائے جانے پر چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کو جمعرات دن 12:00بجے بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونے کی رولنگ دی، جبکہ نصر اللہ زیرے کی جانب سے چشمہ اچوزئی میں قبائل کی زمینوں پر قبضے کے حوالے سے قائمقام اسپیکر نے سینئر بورڈ آف ریونیو کو بھی جمعرات بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونے کی رولنگ دی، بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو 2گھنٹے تاخیر سے قائمقام اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی صدارت میں شروع ہوا، اجلاس میں پینل آف چیئرمین کیلئے قادر نائل،اصغر ترین، اصغر خان اچکزئی، شکیلہ نوید دہوارکو نامزد کر دیا،صوبائی وزیر نعیم بازئی کی جانب سے سانحہ بیلا، پشاوراور کوہاٹ میں شہید ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی اپیل کی جس پر اسپیکر نے تمام شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی،بلوچستان اسمبلی اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین نے مذمتی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں سویڈن میں نسل پرستوں اور انتہا پسندوں کی جانب سے ہماری مقدس کتاب قرآن پاک کو نذر آتش کرنے اور بے حرمتی کرنے کے مذموم و گھناؤنے فعل پر پر زور الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اس قسم کی حرکت دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات پر حملے کے مترادف ہے، اور اس سے دنیا کے تمام مسلمانوں اور مذہب انسانیت کو شدید صدمہ پہنچا ہے، یہ وحشیانہ جرم بین المذاہب ہم آہنگی سماجی امن اور مذہبی روا داری کو نقصان پہنچانے کی ایک دانستہ کوشش ہے، لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ فوری طور پر سویڈن کے سفیر کو طلب کر کے اس گھناؤنی حرکت پر پاکستانی عوام کے دکھ اور افسوس سے آگاہ کرے اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے مرتکب افراد کیخلاف فوری سخت ترین کارروائی کرنے کو یقینی بنائے، نیز معاملہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں بھی اٹھائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے قبیح فعل کی روک تھام کی بابت مستقل لائحہ عمل طے کیا جا سکے، قرار داد کی موزنیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے اصغر ترین نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، اس کیخلاف حکومت پاکستان تمام فورم پر احتجاج ریکارڈ کرائے جس پر اسپیکر نے مذمتی قرار داد متفقہ طور پر ایوان کی رائے سے منظور کر لی، پارلیمانی سیکرٹری خلیل جارج کی جانب سے مذمتی قرار داد میں موقف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ روز پولیس لائن پشاور میں دوران نماز ایک خود کش بم دھماکے کے نتیجے میں 95بے گناہ اور معصوم افراد کو شہید اور 221سے زائد افرادزخمی ہوئے، اس واقع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں کیونکہ اسلام کے نام پر دوران نماز مساجد اور معصوم شہریوں پر حملے ایک بد ترین فعل ہے، پاکستانی عوام نے انتہا پسندوں کے بے بنیاد نظریے اور مذہب کی غلط تشریح کرنے والے عناصر کے اصل چہروں کو پہچان لیا ہے ایسے بزدلانہ حملے کیخلاف ہمارے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے ہیں، بلوچستان کی عوام اس المناک خود کش بم حملے میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد پر انتہائی مغموم اور افسردہ ہے، لہٰذا یہ ایوان شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتا ہے اللہ سے دعا ہے کہ شہداء کے درجات کو بلند لواحقین کو صبر جمیل اور زخمیوں کو جلد صحتیابی عطا فرمائے، مذمتی قرار داد کی موزنیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے خلیل جارج نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت فعل ہے، پوری قوم واقع کے مذمت کی ہے، دنیا کا کوئی مذہب بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، تخریب کاری کے خاتمے کیلئے پوری قوم متحد ہو کر سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔ مذمتی قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے عزیز اللہ آغا نے کہا کہ پشاور خود کش حملے کی ہر پاکستانی مذمت کرتا ہے، تخریب کاری چاہے کسی بھی شکل میں ہو قابل مذمت ہے، جمعیت علماء اسلام کے رکن اصغر ترین نے پشاور خود کش حملے کے حوالے سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اس کی مذمت کرتے ہیں،مذمتی قرار داد پر شکیلہ نوید دہوار، شاہینہ کاکڑ، مکھی شام لال،ٹائٹس سمیت دیگر اراکین نے بھی مذمت کی اور شہداء کے بلند درجات کیلئے دعا کی،قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں حادثات کے شہداء کیلئے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں،پشاور،بیلا اور کوہاٹ میں جس طرح کے واقعات رونماہوئے اس پر دلی افسوس ہوا،صوبائی وزیرملک نعیم بازئی نے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف حکومت بلوچستان نے کوچ کمپنی کا پرمٹ منسوخ کر دیا ہے،مالکان کیخلاف مقدمہ درج کیا آئندہ ہر ضلع میں مسافر کوچوں کی رفتار چیک کی جائیگی، اس واقع پر موٹر وے پولیس کیخلاف مقدمہ درج ہونا چاہئے، جس پر اسپیکر نے مذمتی قرار داد کو ایوان کی رائے سے منظور کر لیا،پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ کوئٹہ میں شدید سردی کے پیش نظر نہ گیس اور نہ بجلی موجود ہے، جسکی وجہ سے کوئٹہ کے شہری اذیت کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے بننے والی پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کو وزیراعظم سے ملاقات کی درخواست کی جنہوں نے ہمیں وقت نہیں دیا، بلوچستان میں مالی بحران پر وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے بقایا جات فوری طور پر ادا کرے، پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے اصغر ترین نے کہا کہ کوئٹہ میں گیس کی عدم فراہمی کیخلاف لوگ سراپا احتجاج ہیں، جہاں افسران باہر سے آئینگے وہاں لوگوں کی شکایات ہی بڑھیں گے، یونس عزیز زہری نے پوائنٹ آرڈر پر کہا کہ خضدار میں کوئی ٹراما سینٹر نہیں ہم نے ٹراما سینٹر کی عمارت مکمل کی ہے اس کیلئے سامان کی خریداری بھی کر لی گئی ہے، صوبائی وزیر صحت احسان شاہ خضدار ٹراما سینٹر کو شروع کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں، رکن صوبائی اسمبلی مکھی شام لال نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری نوکریاں فروخت کی جا رہی ہیں اس کی تحقیقات کی جائیں،جس پر اسپیکر نے اسمبلی اجلاس کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں