مبینہ بیٹی کو ظاہر نہ کرنے کا کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان نااہلی کیس میں لارجر بنچ بنانے کا فیصلہ
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مبینہ بیٹی ٹیریان جیڈ وائیٹ کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نا کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اورسابق وزیر اعظم عمران خان نااہلی کیس میں لارجر بنچ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سماعت 9 فروری کو لارجر بنچ کرے گا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے بنچ پر عمران خان کے اعتراض کو مسترد کردیا۔دوران سماعت درخواست گزار ساجد محمود کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ جبکہ عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ میں مصروفیت کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔ سلمان اکرم راجہ کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ کے بینچ نمبر ون میں پیش ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامرفاروق کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان رکن قومی اسمبلی نہیں رہے، جس بیان حلفی پر درخواست آئی ہے وہ 2018کی ہے۔ عمران خان کے معاون وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے خود ہی عمران خان کو ڈی نوٹیفائی کیا ہے، الیکشن کمیشن نے عمران خان کو ڈی سیٹ کیا اوروہ مستعفی بھی ہوئے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ مناسب ہو گا کہ عمران خان سے متعلق نئی صورتحال کا پتا چلے۔جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ جواب میں بینچ کے اوپر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ آپ قابل قدر جج ہیں ، ایسی کوئی بات نہیں۔ جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ماضی میں کچھ وجوہات کی بنا پر کیس سے علیحدگی کی تھی۔ جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ کچھ اورکیسزمیں بھی بینچ پر اعتراض سامنے آئے ہیں، اس معاملہ پر لارجر بینچ بنا رہے ہیں، لارجر بینچ میں اعتراضات پردلائل سن کر فیصلہ کریں گے، الیکشن کمیشن نے کنفرم کرنا ہے کہ مووجودہ پوزیشن کیا ہے، الیکشن کمیشن سے ڈی نوٹیفائی ہونے کا نوٹیفیکیشن منگوالیتے ہیں، درخواست گزارنے عمران خان کا 2018والا بیان حلفی چیلنج کیا تھا۔عدالت نے قراردیا ہے کہ 9فروری کو لارجر بینچ درخواست پر مزید سماعت کرے گا۔


