عمران خان نے ملکی سلامتی داﺅ پر لگا دی، سب سے اہم مسئلہ پاکستان کو بچانا ہے، مولانا واسع
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر ووفاقی وزیر ہاوسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے 7فروری کو آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد خوش آئند اقدام ہے جس میں تخریب کاری کے خلاف اہم فیصلے کیے جائیں گے ملک کو بچانے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ، مدارس کا تحفظ جمعیت علماءاسلام کی اولین ترجیح ہے جس کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہےں ، ضمنی انتخابات میں جمعیت علماءاسلام پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق حصہ نہیں لے گی کیونکہ یہ فیصلہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشین میں فضلیت کانفرنس اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم مسئلہ پاکستان کو بچانا ہے اور اقتصادی طور پر ملک کی معیشت کو بہتر کرنا ہوگا کیونکہ عالمی طاقتیں پاکستان کی ترقی و خوشحالی نہیں چاہتے اور وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر اس بار پی ڈی ایم کی قیادت میں وفاقی حکومت ملک کو بچانے کیلئے ہر طرح قربانی دینے کیلئے تیار ہے عمران نیازی نے اس ملک کو تباہی و بربادی سے دوچار کردیا سات فروری کو آل پارٹیز کانفرنس خوش آئند اقدا م ہے تمام سیاسی جماعتوں کو اس میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ یہ ملک و قوم کی بقاءکا مسئلہ ہے انہوں نے کہاکہ عمران نیازی کی حکومت کے خاتمے کیلئے پورے ملک میں پندرہ ملین مارچ اور آزادی مارچ کیا اور مسلط حکومت کے خاتمے کیلئے ہر قربانی دیا کیونکہ جمعیت علماءاسلام اور پی ڈی ایم کشمیر کو بچانے‘ناموس رسالت اور سود جیسے نظام کے خلاف جنگ لڑرہے تھے پاکستان کے وجود ختم ہونے پر تلے تھے مگر پی ڈی ایم اور جمعیت علماءاسلام نے ان کا خاتمہ کیا اور ملک کو بچالیاگیا اور اب حکومت کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں سے بھی نکالاگیا اب اس کا نام و نشان نہیں ہے ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ عمران نیازی کی حکومت کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی بھی ختم نہیں ہوگی اور اس کی حکومت کے خاتمے کیلئے اپنی سیاست دا¶ پر لگایا مگر پاکستان اور ان کے ایٹمی قوت کو بچایاگیا کیونکہ اس وقت پاکستان کے بقاءکا مسئلہ ہے اور ہم ان کیلئے جنگ لڑرہے ہیں اگر یہ مجبوری نہ ہوتی تو عام انتخابات کا اعلان کرتے انہوں نے کہاکہ جمعیت علماءاسلام نے ریکوڈک کے معاملے پر وفاقی حکومت کے ساتھ اختلاف رکھا اور جب بلوچستان و سندھ اسمبلی سے ریکوڈک سے متعلق قرارداد پاس ہوئی تو پھر قانون میں یہ موجودہے کہ پارلیمنٹ اس پر قانون سازی کرے گی مگر جمعیت علماءاسلام اور بی این پی مینگل نے وفاق کے خلاف احتجاج کیا قومی اسمبلی میں بائیکاٹ اور کابینہ اجلاس سے بھی بائیکاٹ کیا اور واپس اختیارات کو بلوچستان حکومت کے حوالے کیا انہوں نے کہاکہ حلقہ این اے265کے ضمنی انتخابات میں جمعیت علماءاسلام حصہ نہیں لے گی۔


