ٹی ٹی پی نے میرے قتل کا تھریٹ جاری کیا، میری سرداری کسی خان قلات کی محتاج نہیں، عبدالرحمن کھیتران
کوئٹہ (آن لائن) صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات سردار عبدالرحمن کھیتران نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ سال اکتوبر کے بعد سے ساڑھے تین ماہ ملک سے باہر رہ 2فروری کو وہ بارکھان پہنچے اور بلدیاتی انتخابات میں انکے امیدواروں نے کلین سوئیپ کیا 13فروری کو وہ بارکھان سے کوئٹہ پہنچے اور بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے 20فروری کو انہیں فون کر کے اطلاع دی گئی کہ بارکھان سے ایک خاتون اور دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس پر انہوں نے ایس پی سے رابطہ کرکے انہیں تحقیقات کی ہدایت کی مگر اگلے روز لاشوں کو کوئٹہ میں لاکر دھرنا دیا گیا انہوں نے کہاکہ واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج تھا اس کے باوجود انہوں نے از خود گرفتاری دی اور جیل گئے انہوں نے کہاکہ اس دوران کسی نے کراچی میں اپنا سیاسی دفتر کھول کر میرے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت کہانیاں گڑھنا شروع کردیں میرا میڈیا ٹرائیل کیا گیا اور میڈیا اور سوشل میڈیا میں مختلف نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے انہوں نے کہاکہ مجھے سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا مجھ سے کسی کی ذاتی دشمنی تھی تو کسی کا میرے ساتھ جائیداد اور سرداری پر تنازعہ تھا انہوں نے کہاکہ میرے بیٹے نے میرے مخالف مہم میں حصہ لیا کیونکہ میرا اور میرے بیٹے کا مسئلہ بلدیاتی انتخابات اور دستار بندی کے تنازعہ کا تھا انہوں نے کہاکہ جس خاتون کا کہا گیا کہ اسکی لاش ملی ہے وہ کچھ دن بعد زندہ منظر عام پر آگئی میرے خلاف جرگے بلائے گئے میں جرگے بلانوں والوں کا نام لیکر انہیں اہمیت نہیں دینا چاہتا میری سرداری کسی خان قلات کی محتاج نہیں مجھے یہ منصب میری قوم نے دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے تانے بانے حکومت کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے والوں کی طرف جاتے ہیں میں اسمبلی فلور پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں آج بھی میر عبدالقدوس بزنجو کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں اور آخری سانس تک کھڑا رہونگا اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے مجھے انکی حمایت سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کہاکہ معاملہ سینیٹ کمیٹی داخلہ کو بھیجا گیا جس نے متاثرہ خاندان کے افراد کو طلب کرکے انہیں کمیٹی کے سامنے بٹھایا میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بارکھان کا دورہ کرنے آئے اور دیکھیں کہ وہاں کوئی نجی جیل ہے یا نہیں انہوں نے کہاکہ سینیٹر مشتاق میری نجی جیل ثابت کردیں میں اپنی رکنیت سے مستعفی ہو جاونگا یہ سب اس شخص کیلئے کیاجارہا ہے جو کالعدم تنظیم کا کارندہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاست کو سیاست کی حد تک رہنے دیا جائے انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں ٹی ٹی پی نے مجھے قتل کرنے کیلئے ایک تھریٹ جاری کیا ہے جس میں ایوان کی پراپرٹی بناتا ہوں انہوں نے کہاکہ تخریب کار چاہتے ہیں کہ وہ بارکھان پر قبضہ کرکے تخریب کاری کے واقعات کریں ہم کسی کو بارکھان کے حالات خراب کرنے نہیں دینگے میں بے گناہ ہوں اور ہر فورم پر اپنی بے گناہی ثابت کرتا رہونگا ڈاکٹر مالک بلوچ کے دور میں بھی میرے ساتھ یہی کچھ کیا گیا کہ بارکھان میں میری نجی جیلیں ہیں میں ان تمام الزامات سے سرخرو ہوا اور اب بھی سرخرو ہونگا۔ انہوں نے کہاکہ میری میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ یکطرفہ کوریج سے اجتناب کرے۔


