بلوچستان میں ایک سیاسی جماعت سے دوسری میں لوگوں کے تبادلے ہورہے ہیں، حاجی لشکری

کوئٹہ (آن لائن) سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ 75 سال میں صرف چہرے تبدیل ہوئے ہیں پالیسیاں اور کردار نہیں ، شارٹ کٹ کے راستے پاور شیرنگ کرکے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کو مزید بحرانوں ، انتشار اور خلفشار میں دھکیل دیاہے ، زرعی ملک میں عوام دس کلو آٹے کیلئے مررہی ہے، یہ بات انہوں نے سراوان ہاﺅس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو کرتے ہو ئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہاکہ سیاست میں اسٹیبشلمنٹ کا کردار ختم نہیں ہوا،بلوچستان میں ایک سیاسی جماعت سے دوسری سیاسی جماعت میں لوگوں کی ٹرانسفر پوسٹنگ کی جارہی ہے آج بھی سیاسی گرو پاور شیرنگ کرکے شارٹ شارٹ کے راستہ اقتدار میںآنا چاہتے ہیںجو ملک کو مزید بحرانوں ، انتشار اور خلفشار کی طرف لے کر جائیگا۔ انہوںنے کہا کہ ایک بہت بڑے زرعی ملک جس کی ستر فیصد آبادی زراعت سے منسلک ہے لوگ دس کلو آٹے کیلئے مررہے ہیںاس کے جوابدہ تحریک انصاف اور پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ہیں جنہوں نے ملک میں زرعی پالیسیاں تشکیل دینے کی بجائے لوگوں کو بھکاری بنانے کو ترجیح دی اور آج بھی کسی سیاسی جماعت کے پاس زرعی پیدوار میں اضافے کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بڑے بڑے جلسوں اور مظاہروں سے انقلاب نہیں آئیگا نہ کوئی خاص تبدیلی ہوتی دیکھائی دے رہی ہے، 75 سال کے دوران صرف چہرے تبدیل ہوئے ہیں کردار نہیں۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ اپنا اخلاقی جواز کھوچکی ہے ،سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات کیلئے مصلحت پسندی اختیار کئے ہوئے ہیںایسے میں سیاسی جماعتوں کو چائیے کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر ماضی کی پالیسیوں کو ترک کرکے نئے اصولوں کا تعین کرکے ملک کو آگئے لے کر بڑھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں