الیکشن ایکٹ میں ترامیم آئین کے تابع ہوں گی، پارلیمانی کمیٹی
اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 میں تجویز کردہ ترامیم کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمانی کمیٹی نے کہاہے کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم آئین کے تابع ہوں گی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 میں تجویز کردہ ترامیم کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے کنوینئر سید نوید قمر نے کی۔ اجلاس میں سینیٹر کامران مرتضی، سینیٹر تاج حیدر، ایم این اے محمد افضل خان ڈھانڈلہ، ایم این اے انجینئر نگہبان ،صابر حسین قائم خانی اور وزارت قانون و انصاف، وزارت پارلیمانی امور اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی نے آ ئین کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تجویز کردہ ترامیم خاص طور پر صدر پاکستان اور صوبوں کے گورنرز کے اختیارات کے حوالے سے جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 48، 58، 105 اور 112 میں درج ہیں، کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ الیکشن ایکٹ میں ترامیم آئین کے تابع ہوں گی۔ اس وجہ سے آئین پاکستان کی مجوزہ دفعہ 57(1 ( اور 58 میں اصطلاح ”آئین کے تابع“ڈالنے پر اتفاق کیا گیا۔کمیٹی نے ای سی پی کے توہین عدالت کے اختیارات کے استعمال میں رکاوٹوں کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کمیٹی میں الیکشن کمیشن کے وقار کے تحفظ کے لئے قانون سازی پر زور دیا گیا۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں کچھ دیگر مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے تاہم اس کمیٹی کے محدود دائرہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے دیگر مسائل کو سپیکر کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے لئے تشکیل دی گئی پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیا۔


