کوئٹہ لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی مظاہرہ

کوئٹہ:وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیراہتمام پیر کو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور وائس چیئرمین ماما قدیر کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے لاپتہ افرادکی تصاویر اٹھارکھی تھیں۔ مظاہرین میں حسان قمبرانی، حزب اللہ قمبرانی،جہانزیب،ظہیراحمد، غیاث الرحمن،علی اصغر بنگلزئی سمیت دیگر لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے شرکت کی مظاہرے سے نصراللہ بلوچ،ماما قدیر اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کی وجہ سے ذہنی اذیت سمیت بہت سی مشکلات کا شکار ہیں ہم سے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیرداخلہ نے وعدہ کیا تھا کہ کئی سالوں سے لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں گے لیکن لاپتہ افراد بازیاب نہیں ہوئے لہذا ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ کئی سالوں سے لاپتہ افراد کو بازیاب کرکے اپنا وعدہ پورا کریں انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری سے بھی اپیل ہے کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے قانون کو فوری طور پر قومی اسمبلی سے پاس کرکے قانون کا حصہ بنایا جائے اور حکومت لاپتہ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کرے جس پرالزام ہے انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جو بے قصور ہیں انہیں رہا کردیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں