ٹیلی کام سیکٹر سے مختلف ٹیکسوں کی مد میں378 ارب روپے قومی خزانے میں جمع ہوئے

لاہور:ٹیلی کام سیکٹر سے جنرل سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور ریگولیٹری کی مد میں 378 ارب روپے قومی خزانے میں جمع ہوئے ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے 2022-23کے مطابق یہ رقم جولائی تا دسمبر کے دوران فیس، ابتدائی اور سالانہ لائسنس فیس اور دیگر ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہوئی ہے۔پی ای ایس کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر نے 2018 سے 2022 کے دوران پاکستان میں 6.3 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ مالی سال 2022 میں ٹیلی کام آپریٹرز کی طرف سے رپورٹ کردہ ٹیلی کام سرمایہ کاری 2,073 ملین ڈالر کی نمایاں رقم تک پہنچ گئی جس کی وجہ سپیکٹرم کے حصول اور نیٹ ورک کی توسیع ہے، تاہم یہ مالی سال 2023ئ کی پہلی دو سہ ماہیوں سے کم ہے۔۔ پی ای ایس 2022-23 کے مطابق مارچ 2023 کے آخر میں ملک میں ٹیلی کام کی کل سبسکرپشنز موبائل اور فکسڈ197 ملین تھیں جن کی کل ٹیلی کثافت 83.2 فیصد تھی۔زونگ فور جی جو کہ پاکستان میں فور جی سروسز کا علمبردار ہے اس وقت کل مارکیٹ شیئرز کا 24.07% رکھتا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب اعدادوشمار کے مطابق، مالی سال 2022-23 کے پہلے دس مہینوں کے دوران زونگ فور جیکا مارکیٹ شیئر 22.71% سے بڑھ کر 24.07% ہو گیا ہے۔ پی ٹی اے کے اعدادوشمار کے مطابق، اپریل 2023 تک، زونگ فورجی جی کے پاکستان کے چاروں صوبوں میں 44.19 ملین اور آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 1.5 ملین صارفین ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں