طوفان بیپر جوائے سے 2افراد جاں بحق ،22زخمی،بڑی تعداد میں سیپیاں ساحلوں پر آگئیں
اسلام آباد / کراچی ( انتخاب نیوز+ مانیٹرنگ ڈیسک+ ایجنسیز) عالمی ادارہ صحت نے سمندری طوفان کی موجودہ صورت حال کی رپورٹ متعلقہ اداروں کو بھجوا دی۔ڈبلیو ایچ او نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سمندری طوفان کی شدت میں کمی آنے کے کیٹگری ون میں داخل ہوگیا ہے،سمندری طوفان سے پاکستان کے 4 اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں ، ایک لاکھ کے قریب افراد کا انخلاءہوا ہے ،82 ہزار سے زائد افراد کا محفوظ انخلا کرایا گیا،سمندری طوفان سے 22 افراد زخمی اور 2 اموات رپورٹ کئے گئے ہیں ،4 ہزار سے زائد مریضوں کو ہیلتھ سروسز اور 1,448 بچوں کو ویکسن کیا گیا،بلیو ایچ او کے مطابق ٹھٹھہ، سجاول، بدین میں محکمہ صحت کی جانب مزید اضافی عملہ تعینات کی درخواست کی گئی ،متاثر اضلاع میں 81 ریلیف کمپس186 میڈیکل کمپس بنائے گئے۔ سمندری طوفان بپرجوائے کی وجہ سے بلند لہروں کے باعث بڑی تعداد میں سیپیاں چائنا پورٹ ساحل پر آگئیں۔ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تکنیکی مشیر معظم خان نے کہا ہے کہ ساحل پر آنے والی سیپیاں فین شیل بھی کہلاتی ہیں۔معظم خان کے مطابق پاکستان میں فین شیل کی 7 اقسام پائی جاتی ہیں، یہ سیپیاں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں۔ سمندری طوفان بپرجوائے کے باعث کراچی، جیوانی اور کیٹی بندر کے ساحل کچرے سے بھر گئے۔سائیکلون اور اونچی لہروں کے باعث سمندر نے کچرا ساحل پر پھینک دیا جس سے ساحلوں پر گندگی اور تعفن پیدا ہوگیا ہے۔کوڑے میں لکڑی کے بڑے تختے، چپلیں، جوتے، بڑی تعداد میں پلاسٹک اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔


