دالبندین سمیت ضلع بھر میں خود ساختہ مہنگائی سے غریب عوام پریشان، اشیاءکی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
چاغی (آن لائن) دالبندین سمیت ضلع بھر میں مہنگائی بے لگام پرائس کنٹرول کمیٹی مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام شہر میں خودساختہ مہنگائی نے غریب لوگوں کا کمر توڑ کر رکھ دیا ہے تفصیلات کے مطابق عوامی حلقوں کا کہنا شہر میں مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ غریب لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھانے سے بھی قاصر ہیں پھل سبزیاں سمیت کسی بھی شے خریدنا روز بروز مشکل ہوتی جارہی ہے اس وقت دالبندین سمیت چاغی بھر میں بھنڈی 150 روپے کلو،آم 200 روپے ،کیلا 150 روپے ،بادرنگ 80 روپے ،آلو 80 روپے ،تربوز خربوز 70 سے 100 روپے ،دیہی آدھا کلو وزن سے کم 80 سے 100 روپے ،دودھ 200 سے 240 روپے ،چینی220 روپے کلو فروخت ہورہی ہے جو سراسر عوام کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہے شہر میں گرانفروشی کو کنٹرول کرنے اور روزمرہ ضروری اشیا پر مہنگائی نے ملازم، سفید پوش، مزدور سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو مفلوج کرکے رکھ دیا چکن 800 سو روپے سے لیکر 850 اور مٹن 1800سو سے لیکر 2000 ہزار روپے کلو فروخت ہورہی ہے غریب کا جینا عذاب بن چکا ہے دوسری جانب آٹا کی نرخ میں ایک دفعہ پر اضافہ ایک کلو آٹا 140 روپے سے تجاوز کر گئی ہے پچاس کے جی تھیلا 7000 ہزار سے اوپر تک فروخت ہورہی ہے عوامی حلقوں کا کہنا پھل سبزیاں ہر شے کی قیمتیں کوئٹہ سے چاغی دالبندین میں دگنی فروخت ہورہی ہے اور زیادہ تر پھل سبزیاں معیاری بھی نہیں ہوتے ہیں گزشتہ کئی مہینوں سے انتظامیہ کی جانب سے گرانفروشوں کیخلاف کوئی چیک اینڈ بیلنس بھی دکھائی نہیں دیتی ہے شہر میں مشروبات میں استعمال ہونے والے بوتل وغیرہ کی دونمبر ی اور ذائد المعیاد دیگر اشیاءکی بھی کوئی چیکنگ اینڈ بیلنس دکھائی نہیں دے رہی ہے عوامی حلقوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے خدارہ غریب عوام پر ترس کھا خودساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرکے غیر معیاری اشیا ءفروخت کرنے والوں کی سرزنش کیا جائے حکومتی مہنگائی ایک طرف ضلعی سطح پر تاجروں کے مہنگائی نے عوام کو خودکشی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔


