بارودی سرنگیں

تحریر: انور ساجدی
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کی حکومت وقت سے پہلے چلی جائے گی یعنی 10 سے 12 اگست تک حکومت کی رخصتی ہوگی اس سے پہلے نگران حکومت کے وزیراعظم کا معاملہ طے کیا جائے گا یہ معاملہ کون طے کرے گا یہ ہنوز واضح نہیں ہے آئین کی رو سے وزیراعظم اور لیڈر آف اپوزیشن نگران وزیراعظم کے نام کو فائنل کریں گے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا البتہ اس کا اعلان ضرور شہباز شریف اور راجہ رسالو یعنی راجہ ریاض مشترکہ طور پر کریں گے شہبازشریف نے یہ تو بتایا کہ اسمبلی ٹوٹنے کے 90 دن بعد عام انتخابات ہونگے لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ 90 دن یا 9 ماہ بعد انتخابات کے انعقاد الیکشن کمیشن کو کرناہے اور الیکشن کمیشن کس کی ڈکٹیشن پر چلے گا یہ بھی جانتے ہیں اس طرح وقت کم اور مقابلہ سخت ہے نگران حکومت کے دور میں تحریک انصاف اور عمران خان کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا ان پر مقدمات چلنے میں تیزی آئے گی اور وہ توشہ خانہ سمیت کسی بھی کیس میں گرفتارہوسکتے ہیں لیکن یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج ہوجائے گا امکانی طور پر عمران خان کو وہاں سے ریلیف مل سکتا ہے البتہ حکومت لیت و لعل سے کام لیکر 16 ستمبر کی تاریخ گزر جانے کا انتظار کرے گی تاکہ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ یکطرفہ فیصلہ نہ دے تب تک عدلیہ میں تبدیلی آچکی ہوگی اس ضمن میں حکومت کی تمام تر توقعات جسٹس فائز عیسیٰ سے وابستہ ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ قاضی صاحب حکومت یا مقتدرہ کی توقعات پر اتریں وہ میرٹ پر فیصلے دیں گے جس کی وجہ سے حکومت کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے گویا حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو ایک بڑی جنگ کا سامنا ہوگا پارٹی کے بیشتر رہنما دوسری جماعتوں اور سیاسی ٹھکانوں کا رخ کریں گے عمران خان تنہا رہ جائیں گے اگر وہ انتخابی منظر سے آﺅٹ نہ ہوئے تو ان کا ووٹ بینک حکمرانوں کےلئے بہت بڑا مسئلہ پیدا کرے گا کیونکہ عوام کی اچھی خاصی تعداد اب بھی عمران خان کے ساتھ ہے اگر ن لیگ نے دھوکہ دیا تو تحریک انصاف کی حمایت کے مزید در کھل جائیں گے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور مولانا کے درمیان بہت سارے معاملات طے ہونے ہیں صدر کون ہوگا چیئرمین سینیٹ کس کو لایا جائےگا اور وزارت عظمیٰ کا عہدہ کس کو ملے گا یہ اختلافی معاملات موجود ہیں اے این پی ، ایم کیو ایم، بی این پی اور نیشنل پارٹی کا کیا وزن ہوگا اور وہ کس کے پلڑے میں جائے گا یہ بھی اہم عہدوں کے فیصلے پر اثر انداز ہوگا باقی ملک کا تو معلوم نہیں لیکن بلوچستان میں سوفیصد قرعہ اندازی ہوگی باپ پارٹی کو خلاف توقع برقرار رکھا جارہا ہے جام صاحب کیا حکمت عملی اختیار کریں گے اور بھوتانی خاندان کہاں جائے گا یہ طے ہونا باقی ہے عین ممکن ہے کہ یہ لوگ خاص ہدایات کے تحت باپ پارٹی میں ہی رہیں اس پارٹی کا بظاہر کوئی ووٹ بینک نہیں ہے البتہ چند ایک شخصیات اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں بلوچستان میں جو قرعہ اندازی ہوگی اس کے نتیجے میں تمام جماعتوں کو اکاموڈیٹ کیا جائے گا۔
بلوچستان میں تو کارکردگی سب کی زیرو ہے البتہ حب الوطنی خاص میرٹ ہوگا اس میرٹ پر نیشنل پارٹی، بی این پی اور بلوچستان اے این پی پورا اترتی ہیں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ مستقبل کے تناظر میں کونسی پارٹی زیادہ کارآمد ہوگی کیونکہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ بلوچستان میں ایک بے رحمانہ آپریشن شروع کیاجائے تاکہ صوبہ میں جاری سرکشی دم تور جائے 2013ءکے بعد نیشنل پارٹی نے وفاق سے بدستور تعاون کیا تھا بلکہ اس جماعت کا دعویٰ تھا کہ وہ قیام امن میں کامیاب رہی ہے اس کے بعد وہ یہ تعاون بی این پی نے کیا اگر اس نے مسنگ پرسنز کا معاملہشدومد سے اٹھایا لیکن پھر حکومت کا حصہ بن گئی وہ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی شامل رہی اور اس وقت بھی پی ڈی ایم حکومت کا حصہ ہے دیکھنا ہے کہ دونوں عرضی گزار جماعتوں میں سے کس کی درخواست قابل قبول ہوگی۔
پیپلز پارٹی کو یہ زعم ہے بلوچستان کی حکومت اس کی سربراہی میں بنے گی لیکن یہ سردست کی خوش گمانی ہے بلوچستان کا فیصلہ کافی دیر بعد ہوگا کیونکہ یہ علاقہ خالصتاً مقتدرہ کا اپنا ”ڈومین“ہے وہ یہاں پر ایک آزادانہ اور مخالفانہ حکومت کے قیام کی ہرگز اجازت نہیں دے گی یہ بھی طے ہے کہ جو تین پارلیمانی قوم پرست جماعتیں ہیں ان کو حکومت کی سربراہی کا اعجاز…. نہیں بخشا جائے گا بلکہ حسب سابق کسی مین اسٹریم پارٹی چاہے وہ ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی یہ اعجازان کے حصے میں آئے گا یہ بھی سنا ہے کہ ڈاکٹر مالک اور سردار اختر جان قومی اسمبلی کا رخ کریں گے تاکہ وزارت اعلیٰ پر مسائل پیدا نہ ہوجائیں ڈاکٹر صاحب کےلئے کافی مشکلات ہیں ان کو الیکشن میں کامیابی کےلئے کافی پاپڑ بیلنے پڑیں گے کیونکہ اس علاقے میں کئی دیگر قومی اثاثے بھی ہیں جنہیں ڈاکٹر صاحب کے مقابلے میں اتارا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ وہ کامیابی کے منازل طے نہ کریں۔
چونکہ کیچ اور گوادر پر خاص نظر ہے اس لئے ان کے بارے میں فیصلے مرکز میں ہونگے گوادر کی صوبائی نشست کےلئے مولانا ہدایت الرحمن کو تیار کیا گیا ہے وہ یہاں بی این پی کو زبردست ٹکر دیں گے قلات ڈویژن اور نصیر آباد ڈویژن کو غالباً پیپلزپارٹی کے تصرف میں دیا جائے گا اسی طرح پشتونخواءملی عوامی پارٹی کےلئے بھی حالات زیادہ سازگار دکھائی نہیں دیتے وہاں پہلے کی طرح جے یو آئی زور مارے گی زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ بلوچستان میں چوں چوں کا مربہ اسمبلی بنے گی جس میں کسی بھی ایک پارٹی کواکثریت حاصل نہ ہوسکے گی نتیجے میں ماضی کی طرح ایک بار پھر کل جماعتی حکومت قائم ہوجائے گی بلوچستان کی نام نہاد قوم پرست جماعتوں پر تنقید اپنی جگہ لیکن یہاں پر اتنی بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں کہ قوم پرستوں کےلئے سیاست کرنا اور انتخابات میں حصہ لینا بہت دشوار ہے۔
طاقتور حلقوں نے ان جماعتوں کا پولیٹیکل کریکٹر ختم کرکے انہیں این جی اوز میں تبدیل کردیا ہے لہٰذا زندہ رہنے کےلئے انہیں ہاتھ پیر مارنا پڑتا ہے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کےلئے تابع فرمان رہنا پڑتا ہے۔
سب سے مشکل صورتحال خیبرپختونخواءمیں ہوگی جہاں مولانا اے این پی، ن لیگ اور تحریک انصافکے دھڑے پہلے سے نبرد آزما ہیںمولانا کی خواہش ہے کہ حکومت کی سربراہی جے یو آئی کرے لیکن اس کے سامنے بہت ساری رکاوٹیں ہیں اور لگتا نہیں کہ تحریک انصاف کی موجودگی میں جے یو آئی قیادت کا فریضہ انجام دے پنجاب کے حالات واضح ہیں ن لیگ کو فوقیت حاصل ہے البتہ نئی کنگز پارٹی آئی پی پی کو بھی اکاموڈیٹ کیا جائے گا اور دو نشستیں چوہدری اور ان کے صاحبزادے کےلئے مختص کی جائیں گی اگر پیپلز پارٹی نے ساﺅتھ پنجاب میں کوئی سرپرائزدیا تو اس کے مرکز میں حکومت سازی پر اثرات پڑیں گے اسی طرح اگر تحریک انصاف کو نمایاں کامیابی ملی تو وہ زرداری کے ساتھ مل کر سودے بازی کی بہتر پوزیشن میں آجائے گی فی الحال پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مشترکہ حریف یا دشمن ن لیگ ہے دونوں کے مفاد میں ہے کہ اس جماعت کو ایک حد سے آگے بڑھنے نہ دیا جائے اعلیٰ حکمرانوں کا کیا پلان ہے یہ نگران حکومت کے آجانے کے بعد ہی واضح ہوگا تب تک انتظار کرنے میں عافیت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں