فوجی عدالتوں میں مقدمات پر بہت محتاط ہیں، 102 افراد کو کورٹ مارشل کیلئے منتخب کیا، اٹارنی جنرل

اسلام آباد (انتخاب نیوز) اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ہم بہت محتاط ہیں کہ کس کیخلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلنا ہے، 102 افراد کیخلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے بہت احتیاط برتی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں دکھائے گئے وڈیو کلپس سے ظاہر ہے کہ 9 مئی کی ہنگامہ آرائی میں بہت سے افراد شامل تھے، بڑی تعداد ہونے کے باوجود احتیاط کے ساتھ 102 افراد کو کورٹ مارشل کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی جیسا واقعہ ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا اور ایسے واقعات کی مستقبل میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ میانوالی ایئربیس پر جب حملہ کیا گیا اس وقت وہاں جنگی طیارے کھڑے تھے، ایسا آرڈیننس فیکٹری یا کسی اور جگہ بھی ہو سکتا تھا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھ سے شفاف ٹرائل کی بات کی گئی تھی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کیس فیصلے میں ایک فرق ہے، جب عام شہری سول جرم کرے تو مقدمہ عام عدالتوں میں چلتا ہے، اکیسویں ترمیم کے بعد صورت حال تبدیل ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے آرمی ایکٹ 2015 کا سیکشن 2 (1) بی عدالت میں پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اس کے تحت ہونے والے جرائم کے ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں