مریم نواز چند سال پہلے سیاست میں آئیں، میرے لیڈر نواز شریف ہیں، شاہد خاقان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما اورسابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ میں 35سال سے (ن)لیگ کاحصہ ہوں۔ مجھے سیاست میں 35سال ہو گئے ہیں اور مریم نوازشریف چند سال پہلے سیاست میں آئی ہیں، میرے لیڈر میاں محمدنوازشریف ہیں جبکہ پارٹی کے صدر اوروزیر اعظم میاں محمد شہبازشریف ہیں، یہ ایک حقیقت ہے۔ سب کو ملکی مسائل کا پتا ہے، مجھ سے پوچھناچاہیں تو میں بتادیتاہوں، سب سے پہلے آپ کو نیب ختم کرنا ہو گا ، یہ ادارہ ملک کی معیشت کی تباہی کا سبب ہے۔ نیب بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ سیاست کو کنٹرول کیا جائے، ایک آمر نے نیب بنایا تھا اوراس نے سیاست کو کنٹرول کرنا تھا، لوگوں کو آگے پیچھے توڑنا تھا، نیب کاصرف ایک کام ہے کرپٹ کا تحفظ کرنا اورجو نہیں مانتا اس کو اندر کردینا۔ گورننس کے نظام کو مکمل طورپر تبدیل کرنا پڑے گا اور جو نظام 75سال میں ہم تبدیل نہیں کرسکے اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا پڑے گا۔ٹیکس کا نظام مکمل طور پر بدلنا پڑے گا، ہم کہیں نہ کہیں ٹیکس چوری کرتے ہیں، جب آپ کو نظام موقع دے گاآپ ٹیکس چوری کریں گے، آپ کو لوگوں کے پیچھے جانا پڑے گا کوئی خود ٹیکس نہیں دیتا۔ ان خیالات کااظہار شاہد خاقان عباسی نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نوازشریف سمیت سب کو ری امیجنگ پاکستان فورم کا پتا ہے اور کسی نے اس حوالہ سے مجھے شکایت نہیں کی۔ نوازشریف نے ہمیں کبھی اپنی رائے کے اظہار نہیں روکا۔ ہم نے کسی پر تنقید کرنی ہے نہ تعریف کرنی ہے ، جہاں پر ملک کے مسائل کی بات ہووہاں پرتنقید کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات مجھے بے مقصد نظر آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں 35سال سے انتخابات میںحصہ لے رہا ہوں اور یہ حلقہ کے عوام کرتے ہیں کہ کون لڑے گا اورکیسے لڑے گا۔ الیکشن تو آپ نے کروانے ہیں الیکشن کروانے یا نہ کروانے کی کوئی چوائس نہیں ہوتی لیکن یہ اب سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن سے پہلے بیٹھ کر راستے کا تعین کر لیں کہ آگے ملک کیسے چلے گا۔ گزشتہ دوسال کے دوران تمام سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہ چکی ہیں اوران کے پاس عوام کے مسائل کا حل نہیں ہے، ان کو آج بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کر کے عوام کے پاس جانا پڑے گا۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جو کام آئین سے باہر ہو وہ آپ کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ آپ نے بیٹھنا ہے اورایک راستے کا تعین کرنا ہے کہ ہم گورننس میں کیا تبدیلیاں لائیں گے اور ہم کیا اصلاحات لائیں گے ، ایک وسیع اصول طے کرنا پڑے گا ، معیشت میں کیا کریں گے اور جب الیکشن ہوجائیں تو جو بن جائے تو پھر سب اُس کو سپورٹ کریں ، تعمیری تنقید کریںیہی پارلیمان ہوتی ہے۔ تعمیری تنقید کریں اور حکومت پر نظر رکھیں کہ وہ چیزوں پر عملدرآمد کررہی ہے کہ نہیں کررہی،پھر آپ کا ملک آگے بڑھے گا۔جس دن اس ملک کی سیاسی جماعتیں ، دیگر اہم شراکت دارجن میں فوج بھی ہے اورعدلیہ بھی ہے جس دن یہ ایک میزپرملک کے مسائل کا حل کرنے کے لئے بیٹھیں گے تواُس دن لوگ دیکھیں گے اس ملک کے اندر کیا ہوتا ہے، اس کا فوری اثر نظرآئے گا۔ کرسی اورمیز میں مہیا کردوں گا، بیٹھنے کی یہ بات نہیں ہوتی کیوں میں بیٹھوں ، وہ بلارہا ہے ، کیوں بلا رہا ہے، اگرآپ کو ملک کا درد ہے اورعوام کی تکلیف ہے توآپ خو د بیٹھ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین نیب آج ہر جگہ روتا پھر رہا ہے کہ مجھ پر دبائو تھا اورمجھ سے غلط کام کروائے گئے،یہ ہوا، وہ ہوا، غلط کیس بنوائے گئے۔ ان کہنا تھا آج ملک کے مسائل اتنے بڑھ گئے ہیں کہ نظام اورکسی جماعت یہ صلاحیت ہے ہی نہیں کہ ان کو مینج کرسکے ، ہم آج صرف فائر فائٹنگ کرتے ہیں، آئی ایم ایف کے پیچھے دوڑپڑے ، جوآئی ایم ایف نے کہا وہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہماری کوئی منصوبہ بندی نہیں، ہمارا کوئی اصلاحات کا طریقہ نہیں،ہم اُن معاملات کی طرف نہیں جارہے، جب تک آپ وہ نہیں کریں گے آپ کو مستقل حل نہیں ملے گا۔ جہاں پرآج ہم کھڑے ہیں یہ معمولی حالات نہیں ہیں، ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں اوراس سے نکلنا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے، کسی ایک کے بس کی بات نہیں، کسی ایک جماعت یاکسی ایک شخص میں صلاحیت نہیں ہے۔ شہبازشریف میرے وزیر اعظم ہیں، میرے ووٹ سے وہ وزیر اعظم بنے ہیں، وہ پارٹی صدر بھی ہیں۔ مریم نوازشریف پارٹی کی سینئر نائب صدر ہیں اور میرے لیڈر میاں محمد نوازشریف ہیں۔مریم نواز نے محنت کرنی ہے ، انہوں نے پارٹی کے لئے کوشش کرنی ہے، سیاست میں جگہ بنانی ہے، ان کو ووٹر قبول کرتا ہے، یہ سب وقت کی بات ہے۔ اگر مریم نوازالیکشن لڑیں گی توضرور جیتیں گی، ورکر کے دل میں ان کے لئے جگہ ہے، انہیں اپنی جگہ بنانی پڑے گی ہم سب محنت کرتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مریم نواز کوسینئر نائب صدر بنانا نوازشریف کا فیصلہ ہے اور پارٹی اس فیصلے کو تسلیم کرتی ہے ، نوازشریف پارٹی کے روح رواں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری بجلی بنانے کی قیمت بڑھ گئی ہے، آئی ایم ایف نہیں کہتا کہ بجلی کی قیمت بڑھائیں لیکن وہ یہ کہتا ہے کہ جو بھی بجلی کی قیمت آتی ہے وہ وصول کریں۔ پاکستان کی حالت یہ ہے کہ وفاق کی جو کل آمدن ہے وہ ملک کے سود کا خرچہ بھی پورانہیں کرتی، سود کے لئے بھی مزید قرضہ لینا پڑتا ہے اوردفاع کے لئے بھی لینا پڑتا ہے، حکومت چلانے کے لئے بھی لینا پڑتا ہے اورترقیاتی کاموں کے لئے بھی لینا پڑتا ہے۔ جب آپ بجلی کی پوری قیمت وصول نہیں کریں گے توآپ کو وہ پیسے کہیں سے توپورے کرنے ہیں،آپ مزید قرضہ لیں گے یہ ایسا چکر ہے جوتوڑنا پڑتا ہے اور مشکل فیصلوں سے توڑنا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں